بیمار افراد ڈاکٹرکےمشورے پرہی روزے رکھیں،مفتی تقی عثمانی

فوٹو: فیس بک

معروف اسلامی اسکالر مفتی تقی عثمانی کا کہنا ہے کہ اگر ڈاکٹر یہ سمجھتے ہیں کہ کسی مریض کی حالت ایسی نہیں کہ وہ روزے رکھ سکے تو انہیں اپنے معالج کی ہدایت پر عمل کرنا چاہیے۔

ان خیالات کا اظہار ہفتے کے روز شروع ہونے والی دو روزہ ساتویں بین الاقوامی  ذیابطیس اور رمضان کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کا انعقاد بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائینولوجی نے انٹرنیشنل ڈائبیٹیز فیڈریشن، رمضان اینڈ حج اسٹڈی گروپ اور اور ڈائبیٹیز اینڈ رمضان انٹرنیشنل الائنس کے تعاون سے کیا ہے۔

مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ مختلف بیماریوں میں مبتلا خاص طور پر ذیابطیس کے مریضوں کے حوالے سے دو شدت پسندانہ آراء پائی جاتی ہیں، ایک طبقہ کہتا ہے کہ ذیابطیس کے مریضوں کو روزے ضرور رکھنے چاہئیں جب کہ دوسرا مکتبہ فکر اس بات کا قائل ہے کہ ایسے لوگوں کو بالکل بھی روزے نہیں رکھنے چاہییں تاہم طبی معاملات میں ماہرین صحت کی رائے کو اولیت حاصل ہے۔

ذیابطیس اور رمضان کے حوالے سے کانفرنس کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ اس میں پوری دنیا سے ماہرین شرکت کر رہے ہیں اور امید ہے کہ وہ دنیا کے کے کروڑوں مسلمانوں کو روزے رکھنے کے حوالے سے مفید مشورے دیے جا سکیں گے۔

ذیابطیس، بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں سمیت دیگر امراض میں مبتلا افراد کی بڑی تعداد رمضان کے روزے رکھتی ہے لیکن ایسے تمام افراد کو چاہیے کہ وہ پہلے اپنے معالجین سے مشورہ کرلیا کریں اور اپنی دواؤں کی ڈوز اور اوقات کار میں تبدیلی لائیں تاکہ وہ محفوظ طریقے سے رمضان کے جسمانی اور روحانی فوائد سمیٹ سکیں۔

انٹرنیشنل ڈائبٹیز فیڈریشن کے صدر پروفیسر اینڈریو بولٹن کا کہنا تھا کہ روزہ اسلام کے 5 اہم ستونوں میں سے ایک ہے اور ہر سال کروڑوں مسلمان اپنی مختلف بیماریوں خصوصاً زیابطیس کے باوجود روزے رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال رمضان کے مہینے کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ یہ مبارک مہینہ کرونا وائرس کی وبا کے دوران آرہا ہے اور امید ہے کہ ماہرین صحت اس وبا میں رمضان کے روزے محفوظ طریقے سے رکھنے کے حوالے سے دنیا کے مسلمانوں کو مفید مشورے دیں گے۔

انٹرنیشنل ڈائبٹیز فیڈریشن کے نو منتخب صدر اور ناروے کے ماہر ذیابطیس پروفیسر اختر حسین کا کہنا تھا کہ تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ذیابطیس اور دیگر بیماریوں میں مبتلا 80 فیصد سے زائد افراد رمضان کے روزے رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2010 میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ذیابطیس میں مبتلا 95 فیصد افراد نے 15 روزے رکھے جبکہ 65 فیصد مریضوں نے  رمضان کے پورے روزے رکھے۔

پروفیسر اختر حسین کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے سے 30 سے 40 فیصد افراد کو یہ علم نہیں کہ وہ رمضان کے مہینے میں کس طرح محفوظ طریقے سے روزے رکھ سکتے ہیں لیکن اس سلسلے میں ہر سال ہونے والی کے طبی کانفرنس اہم کردار ادا کرسکتی ہے اور اس کے منتظمین اس حوالے سے مبارک باد کے مستحق ہیں۔

کانفرنس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر یعقوب احمدانی کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 15 سالوں سے رمضان اور حج کی عبادات کو محفوظ طریقے سے ادا کرنے کے حوالے سے ریسرچ کر رہے ہیں اس سلسلے میں یہ کانفرنس رکھی گئی ہے جس میں پوری دنیا سے ماہرین کو مدعو کیا گیا ہے تاکہ وہ رمضان کے مہینے میں مسلمانوں کو محفوظ طریقے سے روزے رکھنے کے حوالے سے آگاہی اور معلومات فراہم کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کانفرنس کو رمضان کے آغاز سے چند ہفتے قبل منعقد کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ذیابطیس میں مبتلا مریض کو یہ بتایا جائے کہ وہ اپنے معمولات کار اور دواؤں کو اپنے معالجین کے مشورے سے کیسے ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رمضان کے حوالے سے ڈاکٹروں کی تربیت بھی بہت ضروری ہے تاکہ وہ اپنے مریضوں کو روزہ رکھنے کے حوالے سے صحیح مشورہ دے سکیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کو چاہیے کہ وہ اپنے مریضوں کو بتائیں کہ رمضان کے مہینے میں پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں، ورزش کو  ترک نہ کریں، مرغن غذاؤں سے پرہیز کریں، چائے کافی اور کولڈ ڈرنکس کے استعمال سے اجتناب کریں جبکہ کسی بھی بھی مسئلے کی صورت میں ٹیکنالوجی خاص طور پر ٹیلی میڈیسن کا استعمال کر کے مفید مشورے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائینولوجی کے ڈائریکٹر پروفیسر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ انٹرنیشنل ڈائبیٹیز فیڈریشن اور دیگر عالمی اداروں کے اشتراک سے زیابطیس کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق کر رہا ہے، اللہ کا شکر ہے کہ پاکستانی اور عالمی ماہرین کی کئی سالوں کی محنت کے بعد اب ذیابطیس اور دیگر امراض میں مبتلا مریض رمضان کے فیوض و برکات سے مستفید ہو رہے ہیں اور لوگوں کو اس بات کا علم ہو چکا ہے کہ وہ ان حالات میں روزے رکھ سکتے ہیں جبکہ وہ کیا عوامل ہیں جن کی بنا پر وہ بغیر کفارہ ادا کیے روزہ توڑ سکتے ہیں۔

ذیابطیس، بلڈ پریشر اور دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد رمضان سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں، ماہریین

کرونا وائرس کی وبا کے باوجود پچھلے سال 91 فیصد سے زائد مسلمانوں نے رمضان میں روزے رکھے اور اس سال  یہ شرح 95 فیصد تک جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں