’بین الاقوامی سیاحت کی 2023 تک مکمل بحالی متوقع نہیں‘

اقوام متحدہ کی ایک تحقیق کے مطابق ’رواں برس بین الاقوامی سیاحت جمود کا شکار رہے گی جس سے 2.4 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد پیش گوئی کی جارہی ہے کہ شعبہ سیاحت 2023 سے پہلے مکمل بحال نہیں ہوگا۔‘ 
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے اقوام متحدہ کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ’کورونا وائرس کی ویکسینیشن اور سرٹیفیکیٹس کا لوگوں میں بین الاقوامی سیاحت پر اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ہے۔‘
مزید پڑھیں
 ’اس سے کئی ممالک کو مدد ملی ہے خاص طور پر چھوٹے جزیروں کو، جن کا نوکریوں کے لیے سیاحت کے شعبے پر انحصار ہے۔‘ 
اقوام متحدہ کے عالمی سیاحتی ادارے اور کانفرنس آن ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’سال 2019 کی نسبت 2020 کے دوران بین الاقوامی سیاحت میں 73 فیصد کمی دیکھی گئی، جس سے سیاحت اور متعلقہ شعبوں کو 2.4 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا۔‘
یو این سی ٹی اے ڈی کے ریلف پیٹر نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ’رواں سال سیاحت میں زیادہ بہتری متوقع نہیں ہے۔‘
’(رواں سال کے) پہلے تین ماہ پھر خراب گزرے۔ (لوگ) زیادہ سفر نہیں کر رہے تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ویکسینیشن کی وجہ سے ’سال کی دوسری ششماہی کے دوران (سیاحت میں) بحالی کی کچھ حد تک توقع ہے۔‘ 
 

یو این سی ٹی اے ڈی کے ریلف پیٹر نے بتایا کہ رواں سال سیاحت میں زیادہ بہتری متوقع نہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
انہوں نے بتایا کہ ’کم از کم شمالی امریکہ اور یورپ میں سیاحوں کے تعداد میں اضافے کی امید ہے۔‘
اس رپورٹ میں 2021 کے لیے تین صورت حال بیان کی گئی ہیں، جس کے تحت کورونا وائرس کی وبا کے دوران بین الاقوامی سیاحت میں 63 سے 75 فیصد کمی متوقع ہے۔
اس کے نتیجے میں 1.7 ٹریلین اور 2.4 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوسکتا ہے۔ 
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی سیاحت کی نمائندہ زورٹسا یوروسیوک کا کہنا تھا کہ ’بین الاقوامی سیاحت میں ہم 30 سال پہلے کی سطح پر ہیں، جس کا مطلب ہے ہم 80 کی دہائی میں ہیں۔۔۔ کئی لوگوں کا ذریعہ معاش خطرے میں ہے۔‘