’بیٹی کا اغوا اور تشدد‘، افغان سفیر اور سفارتی عملہ واپس کابل روانہ

افغانستان حکومت کی جانب سے واپس بلائے جانے کے بعد پاکستان میں تعینات افغان سفیر نجیب اللہ علی خیل کابل روانہ ہو گئے ہیں۔
اسلام آباد میں افغانستان سفارت خانے کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اردو نیوز کو بتایا کہ افغان سفیر پیر صبح روانہ ہو چکے ہیں جبکہ دیگر سفارتی عملہ دن دو بجے پاکستان سے روانہ ہو جائے گا۔
اسلام آباد میں افغانستان کے سفارت خانے کا ویزا سیکشن بھی بند کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے افغان ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے اور 16 جولائی کو پیش آنے والے واقعے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اب تک اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔
یاد رہے کہ اتوار کو افغانستان کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ اسلام آباد میں اپنے سفیر کی بیٹی کے اغوا کے بعد ’سکیورٹی خدشات‘ کی بنا پر اپنے سفیر اور دیگر سفارت کاروں کو واپس کابل بلایا جا رہا ہے۔
16 جولائی کو افغانستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ ’اسلام آباد میں تعینات افغان سفیر نجیب اللہ علی خیل کی بیٹی سلسلہ علی خیل کو 16 جولائی کو نامعلوم افراد نے کئی گھنٹوں تک اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
افغان وزارت خارجہ نے پاکستان سے ’اس ناقابل معافی حرکت کے پیچھے ملوث مجرموں کو فوراً گرفتار اور سزا دینے‘ کا مطالبہ کیا تھا۔
افغان وزارت خارجہ نے اتوار کو ایک جاری بیان میں مزید کہا کہ ایک افغان وفد جلد ہی پاکستان جا کر کیس کی پیش رفت اور دیگر صورتحال کا جائزہ لے گا جس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اتوار کو کہا تھا کہ اسلام آباد سے افغان سفیر کی بیٹی کو اغوا نہیں کیا گیا۔

افغانستان کی وزارت خارجہ نے بتایا تھا کہ اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کو اغوا کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ فائل فوٹو: افغان سفارتخانہ
 جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میڈیا پر چلنے والی تصاویر افغان سفیر کی بیٹی کی نہیں بلکہ جعلی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ ’کیا مایوس کن واقعہ؟ جب دشمنوں، انڈیا کا ایجنڈا فالو کریں گے۔ ایک لڑکی گھر سے پیدل نکلتی ہے۔ کھڈا مارکیٹ سے ٹیکسی لیتی ہے۔ ہم کہتے ہیں ہمارے پاس فوٹیج ہے وہ راولپنڈی جاتی ہے اور راولپنڈی سے دامن کوہ آتی ہے اور دامن کوہ سے تیسری ٹیکسی لیتی ہے۔ ہمارے پاس سارے ٹیکسی ڈرائیوروں کے رابطے ہیں۔ ابھی آدھا گھنٹہ پہلے آ کر فون دیتی ہے۔ پہلے کہتی ہے فون لے کر گئے پھر فون دیتی ہے تو واٹس ایپ وغیرہ ڈیلیٹ کر دیتی ہے۔‘
شیخ رشید نے کہا کہ وہ مان نہیں رہی لیکن ہمارے پاس فوٹیج ہے کہ ’وہ راولپنڈی میں کھڑی ہے۔ ایک فوٹیج ڈھونڈ رہے ہیں وہ مل جائے تو سب کچھ سامنے آئے گا۔‘
اس سے پہلے اتوار کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ افغانستان کے سفیر کی بیٹی کے اغوا اور تشدد کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کر لیا گیا ہے۔ کڑیوں سے کڑیاں ملا رہے ہیں، جلد یہ گُتھی سلجھ جائے گی۔
شیخ رشید نے بتایا کہ ’فوٹیج کے مطابق افغان سفیر کی بیٹی گھر سے پیدل نکلیں اور ٹیکسی میں بیٹھ کر کھڈا مارکیٹ گئیں جہاں سے وہ راولپنڈی کی طرف گئیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ واقعہ 16 جولائی کو پیش آیا، خاتون ایف 6 جا سکتی تھیں لیکن انہوں نے ایف نائن جانے کو اہمیت دی۔