بیٹے کا ماں سے محبت کا انوکھا انداز، والدہ کے نام کو اپنے نام کا حصہ بنا لیا

ماں اپنی اولاد کی محبت میں زندگی بھر مشکلات کا سامنا کرتی ہے اور ان کی کامیاب زندگی کے لیے اپنی خوشیاں اور آرام قربان کر دیتی ہے۔ اولاد بھی اپنی ماں کو سب سے عزیز سمجھتی ہے اور اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہ باپ سے زیادہ ماں سے قریب ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں
پاکستان کی فیشن انڈسٹری میں 28 سال سے اپنی محنت سے نام بنانے اور شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے فیشن ڈیزائنر عمر سعید نے اپنی والدہ سے محبت کا سب سے منفرد انداز اپنایا ہے جو شاید پاکستان میں واحد مثال ہے۔
عمر سعید نے اپنے نام کے ساتھ اپنی والدہ سمیعہ سعید کا نام شامل کر کے اپنا نیا شناختی کارڈ بنوا کو والدہ کو ’سرپرائز‘ دیا جس پر ان کا نام ’عمر سمیعہ سعید‘ لکھا ہوا تھا جسے دیکھ کو والدہ بھی حیران رہ گئیں۔
عمر سمیعہ سعید کے والد کیمسڑی کے پروفیسر تھے جبکہ ان کی والدہ اسلامیات کی لیکچرار رہی ہیں۔ عمر سعید نے اردو نیوز کو بتایا کہ ان کی والدہ نے اپنے گھر اور اپنی اولاد کی کامیابی کے لیے انھیں محنت اور ایمانداری کا راستہ دکھایا جس پر چلتے ہوئے نہ صرف وہ بلکہ ان کے باقی بہن بھائی بھی اپنے اپنے شعبے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ 
اپنے نام میں والدہ کا نام شامل کرنے کے فیصلے اور اس پر عمل در آمد کے حوالے سے عمرسعید نے بتایا کہ ’یہ سوال میرے ذہن میں بہت دفعہ آتا تھا کہ جو ماں بچے کو پالتی ہے اور مشکلیں اٹھاتی ہے، اس کا نام ہمارے نام کے ساتھ کیوں نہیں آتا؟‘

عمر سعید کے بقول ’باپ کا نام ساتھ ہوتا ہے لیکن مجھے والد کے ساتھ ساتھ اپنی ماں کا نام بھی چاہیے تھا۔‘ (فوٹو: عمر سعید)
انہوں نے بتایا کہ ’یہ خیال مجھے بار بار ستاتا تھا لیکن یہ خیال کبھی نہیں آیا تھا کہ میں بھی اپنے نام کے ساتھ اپنی ماں کا نام جوڑ سکتا ہوں۔ پچھلے کئی سالوں سے یہ بات میرے دماغ میں آ کر ٹھہر سی گئی کہ مجھے اپنی خوشی اور سکون کے لیے اپنے نام کے ساتھ ماں کا نام چاہیے۔‘ 
عمر سعید کے بقول ’باپ کا نام ساتھ ہوتا ہے لیکن مجھے والد کے ساتھ ساتھ اپنی ماں کا نام بھی چاہیے تھا۔ یہ سب میں نے اپنی خوشی، ذہنی سکون اور دل کی خواہش کے لیے کیا ہے۔ کسی کو دکھانے کے لیے نہیں کیا اور نہ ہی پبلسٹی کے لیے کیا۔‘ 
انھوں نے کہا کہ ’جب میں نے اپنا نیا ترمیم شدہ شناختی کارڈ دیکھا تو بہت خوش ہوا۔ یہ میں بہت پہلے کرنا چاہتا تھا لیکن زندگی کی مصروفیات کے باعث وقت نہیں ملتا تھا۔ جب کورونا آیا تو میں نے اپنے ساتھ بہت وقت گزارا تب میں نے سوچا کہ اتنے سارے کام کرتا ہوں تو وہ کیوں نہیں کر رہا جو میری دلی خواہش ہے۔‘ 
عمر سمیعہ سعید نے بتایا کہ ’میں نے اپنی بہن رومیسہ سعید کو بتایا کہ مجھے یہ کام کرنا ہے انھوں نے میری بھرپور مدد کی اور میرے ساتھ نادرا آفس گئیں۔ تاہم نادرا کا عملہ بہت مددگار نہیں تھا۔ انھوں نے مجھے بہت ڈرایا لیکن میں نے انھیں کہا کہ یہ میرا قانونی حق ہے میں پاکستان یا اسلام کے خلاف کچھ نہیں کر رہا۔‘ 
عمر سمیعہ سعید کے مطابق ’نادرا کے عملے نے ڈرایا کہ مجھے جائیداد میں حصہ نہیں ملے گا، میری ڈگریاں بے کار ہو جائیں گی۔ میں اپنے فیصلے پر ڈٹا رہا۔‘

عمر سعید کی والدہ نے بتایا کہ ’ہم نے اپنے بچوں پر جو محنت کی انھوں نے ہمیں اس کا اچھا پھل دیا ہے۔‘ (فوٹو:عمر سعید)
اردو نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے عمر سمیعہ سعید کی والدہ سمیعہ سعید نے کہا کہ ’عمر نے مجھے نہیں بتایا تھا کہ وہ اپنے نام میں میرا نام شامل کر رہے ہیں۔ انھوں نے اچانک اپنا شناختی کارڈ میرے سامنے رکھ کر مجھے حیران کر دیا۔ یہ میرے لیے ایک بڑا سرپرائز تھا۔ مجھے بہت سے لوگوں نے مبارک باد بھی دی اور مجھے خوشی بھی بہت ہوئی۔ مجھے احساس ہوا کہ عمر مجھے کتنا چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میرے شوہر کیمسٹری کے پروفیسر تھے اور میں خود بھی پڑھاتی رہی ہوں۔ میرے پانچ بچے ہیں اور عمر ان میں سب سے بڑے ہیں۔ تمام بچے اپنی زندگیوں میں کامیاب ہیں۔ ہم نے اپنے بچوں پر جو محنت کی انھوں نے ہمیں اس کا اچھا پھل دیا ہے۔‘
عمر سعید کی والدہ کے بقول’عمر بھائی بہنوں میں سب سے بڑے ہیں اور باقی سب سے مختلف بھی ہیں۔ وہ اپنے بہن بھائیوں سمیت سب سے بہت پیار کرتے ہیں مگر اظہار میں تھوڑے کنجوس ہیں۔‘
عمر سمیعہ سعید اس سے پہلے بھی اپنے کئی انٹرویوز میں والدہ کو اپنی پسندیدہ شخصیت قرار دے چکے ہیں۔