بیگم نسیم ولی کوآئرن لیڈی کیوں کہاجاتا تھا

فائل فوٹو

زریک سیاست دان اور خاتون رہنما بیگم نسیم ولی خان خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی کی پارلیمانی لیڈر اور سابق صوبائی صدر بھی رہیں۔

 بیگم نسیم ولی خان کی پیدائش اور پرورش ایک قدامت پسند سیاسی گھرانے میں ہوئی اور میدانِ سیاست میں وہ  سال 1975 میں اس وقت منظرِعام پر آئیں جب اُن کے شوہر اور پشتون قوم پرست جماعت نیشنل عوامی پارٹی (این اے پی) کے صدر ولی خان کو گرفتار کیا گیا۔

اُس وقت کے وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اُن کی پارٹی پر پابندی عائد کر دی تھی۔ جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں بیگم نسیم ولی خان نے این اے پی کی باگ ڈور سنبھال لی اور حیدرآباد جیل سے اپنے شوہر اور این اے پی کے درجنوں ساتھیوں کی رہائی کے لئے ایک کامیاب مہم چلائی۔

اپنی سیاست کے ابتدائی دنوں میں ہی بیگم ولی خان نے اس وقت ایک نئی تاریخ رقم کی جب وہ 1977 کے عام انتخابات میں جنرل نشست پر خیبرپختونخوا سے منتخب ہونے والی پہلی خاتون بنیں۔

خیبرپختونخوا اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی (جس کی بنیاد 1986 میں رکھی گئی) کی پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے وہ صفِ اول کی سیاست دان کے طور پر ابھر کر سامنے آئیں اور مسلسل 3 بار اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔

انہوں نے اے این پی کی صوبائی صدر کی حیثیت سے بھی تین بار خدمات انجام دیں۔ بیگم نسیم ولی خان نے 1993 اور 1997 میں اے این پی کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لیا اور اپنے مرد حریفوں کو شکست دے کر صوبائی اسمبلی کی نشست اپنے نام کی۔

عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی رہنما کی حیثیت سے انہوں نے پی ایف -17، چار سدہ کی صوبائی نشست پر 1993 اور 1997 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔

بعض سیاسی اختلافات کی بناء پر بیگم نسیم ولی خان نے 2014 میں عوامی نیشنل پارٹی (ولی) کے نام سے اپنی سیاسی جماعت کا آغاز کیا۔

وہ اپنی پارٹی بنانے والی چارسدہ کی پہلی پختون ہیں۔ بیگم نسیم ولی خان ہمیشہ سے انتخابی عمل میں خواتین کی سیاسی شمولیت کی مضبوط حامی رہی ہیں۔ وہ اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ خواتین کو سیاست میں ضرور حصہ لینا چاہئے کیونکہ وہ معاشرے کا بڑا حصہ ہیں۔ خواتین کو نظرانداز کرنا معاشرے کی اکثریت کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔

متعلقہ خبریں