تائیوان تنازع، امریکہ غلط اور خطرناک پیغام بھیج رہا ہے: چین کا الزام

امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن اور وانگ یی کے درمیان بات چیت کا محور تائیوان تھا (فوٹو: روئٹرز)

چین نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ تائیوان کے معاملے پر ’انتہائی غلط اور خطرناک پیغام‘ بھیج رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کو ملاقات میں بتایا کہ ’تائیوان کے معاملے پر امن اور استحکام کی بحالی انتہائی اہم ہے۔‘
مزید پڑھیں
ایک امریکی اہلکار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’نیو یارک میں اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس کے موقع پر اینٹونی بلنکن اور وانگ یی کے درمیان 90 منٹ بات چیت ہوئی جس کا محور تائیوان تھا۔
امریکی انتظامیہ کے سینیئر اہلکار نے بتایا کہ ’وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ہماری دیرینہ ون چائنہ پالیسی جس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے۔‘
چین کی وزارت خارجہ نے اس ملاقات کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’امریکہ تائیوان کے معاملے پر انتہائی غلط اور خطرناک پیغام بھیج رہا ہے۔ تائیوان کی آزادی کی سرگرمیاں جتنی زیادہ ہوں گی پُرامن تصفیے کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے۔‘
وزارت نے وانگ یی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تائیوان کا مسئلہ چین کا اندرونی معاملہ ہے اور امریکہ کو اس میں مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں کہ اسے حل کرنے کے لیے کون سا طریقہ استعمال کیا جائے گا۔‘
ادھر تائیوان کی وزارت خارجہ نے اینٹونی بلنکن اور وانگ یی کے درمیان ہونے والی ملاقات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’چین کے حالیہ اشتعال انگیز اقدامات نے آبنائے تائیوان کو بحث کا مرکز بنا دیا ہے اور چین بین الاقوامی برادری کو ایسے دلائل اور تنقیدوں سے الجھانے کی کوشش کر رہا ہے جو حقیقت کے برعکس ہیں۔‘

نینسی پیلوسی کے دورے کے بعد امریکہ اور چین کے تعلقات میں سخت تناؤ پیدا ہوا تھا (فائل فوٹو: روئٹرز)
امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی کے دورے کے بعد امریکہ اور چین کے تعلقات میں سخت تناؤ پیدا ہوا تھا۔
نینسی پیلوسی کے دورے کے بعد بھی چین نے فوجی مشقیں شروع کر دی تھیں اور تائیوان کے آس پاس کے پانیوں میں متعدد میزائل داغے اور ساتھ ہی جزیرے کی ناکہ بندی کرنے کے لیے لڑاکا طیارے اور جنگی جہاز بھیجے۔
چین تائیوان کو اپنے صوبوں میں سے ایک کے طور پر دیکھتا ہے اور اس نے طویل عرصے سے اس جزیرے کو اپنے کنٹرول میں لانے کا عزم کیا ہے اور ایسا کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کو مسترد نہیں کیا۔
تائیوان کی حکومت چین کی خودمختاری کے دعوؤں پر سخت اعتراض کرتی ہے اور کہتی ہے کہ جزیرے کے 2 کروڑ 30 لاکھ افراد ہی اس کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ اینٹونی بلنکن کی ملاقات آسٹریلیا، انڈیا، جاپان اور امریکہ کے کواڈ گروپنگ کے وزرائے خارجہ کے درمیان ایک ملاقات سے پہلے ہوئی۔