’تاوان دو ورنہ ڈیٹا ڈارک ویب پر‘، ہیکر کی آسٹریلین نیٹ کمپنی کو دھمکی

پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں (فوٹو: اے پی)

آسٹریلیا میں ایک ہیکر نے لوگوں کے چوری شدہ ذاتی ڈیٹا کے حوالے سے ایک ملین ڈالر تاوان کا مطالبہ کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ عدم ادائیگی کی صورت میں اس کو ڈارک ویب پر ڈال دیا جائے گا، جس پر پولیس حرکت میں آ گئی ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی نے ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ہیکر کی جانب سے آپٹس کے کچھ کسٹمرز کا ڈیٹا جاری بھی کیا جا چکا ہے جبکہ تاوان کی ادائیگی کا مطالبہ کرپٹوکرنسی میں کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
ہیکنگ کا واقعہ پچھلے ہفتے سامنے آیا تھا اور پتہ چلا تھا کہ ایک کروڑ کے قریب کسٹمرز کا ڈیٹا چرایا گیا جس پر حکومت نے لیکس سائبرسکیورٹی کمپنی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
سڈنی سے تعلق رکھنے والے سائبر سکیورٹی رائٹرز جیریمی کرک کا کہنا ہے کہ ہیکر نے 10 ہزار صارفین کا ڈیٹا ڈارک نیٹ پر ریلیز کر دیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر آپٹس نے ادائیگی نہ کی تو ہر روز دس ہزار صارفین کا ڈیٹا بلیک نیٹ پر ڈالا جائے گا۔
 جب آپٹس کمپنی سے پوچھا گیا کہ اس کی جانب سے عدم دائیگی کی صورت میں ہیکر نے صارفین کا ڈٰیٹا فروخت کر دیا تو کیا ہو گا تو کمپنی کے چیف کیلی بائر روسمیرن نے آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو بتایا کہ ’ہم اس حوالے سے ایک پوسٹ ڈارک ویب پر دیکھ چکے ہیں۔‘
آسٹریلیا کی فیڈرل پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کی جاری ہیں کہ اس کے پیچھے کون ہے اور اس میں کون کون شامل ہے۔ اس کے علاوہ پولیس نے مزید کوئی تفصیلات دینے سے انکار کیا ہے۔
اسی طرح جیریمی کرک کے مطابق منگل کو جاری کیا جانے والا صحت کے اعدادوشمار سے متعلق ہے جو اس سے قبل کبھی سامنے نہیں لایا گیا تھا۔
سائبر سکیورٹی کے وزیر او نیل نے آپٹس پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں صارفین کو باخبر رکھے۔ یہ امر پریشان کن ہے کہ ڈیٹا کے بدلے تاوان مانگا جا رہا ہے۔‘
اون نیل کا مزید کہنا تھا کہ ایسا آسٹریلیا کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے جس سے اتنی بڑی تعداد میں صارفین متاثر ہوئے ہیں۔
حملے کا نشانہ بننے والے تقریباً ایک کروڑ صارفین میں سے 20 لاکھ 80 ہزار کا حساس ڈیٹا چوری ہوا ہے جس میں ڈرائیور لائسنسز کے علاوہ پاسپورٹ کے نمبرز بھی شامل ہیں۔