تحریک انصاف اپنے عہدے داروں سے ماہانہ کتنا چندہ لے گی؟

پاکستان کی حکمران جماعت تحریک انصاف نے حال ہی میں ایک سرکلر جاری کیا ہے جس میں پارٹی کے اہم عہدوں پر فائز افراد سے ہر ماہ چندہ لینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
یہ سرکلر پارٹی کے مرکزی سیکریٹری مالیات کی جانب سے ملک بھر کے تمام عہدیداروں کو بھیجا گیا ہے۔ یہ چندہ یونین کونسل کی سطح سے لے کر مرکزی گورننگ باڈیز کے تمام عہدیداروں سے ہر ماہ وصول کیا جائے گا۔ 
اردو نیوز کو حاصل اس سرکلر کی کے مطابق ’کوئی بھی ممبر اگر مسلسل تین ماہ تک اپنے ذمہ واجب الادا رقم جمع نہیں کروائے گا تو اس کی ممبر شپ خود بخود ختم ہو جائے گی۔‘
مزید پڑھیں
تنظیمی ڈھانچے کے تمام صدور کو احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ اس سرکلر کے جاری ہونے کے 10 دن کے اندر وہ تمام گورننگ باڈیز کے ممبران سے پیسے اکھٹے کریں۔ ان 10 دنوں میں جس کے پیسے نہیں آئیں گے ان کی رکنیت ختم کر دی جائے گی۔
سرکلر میں تحریک انصاف کے اپنے آئین کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جو پارٹی چلانے اور دیگر اخراجات کے لیے جماعت کے اندر سے چندہ جمع کرنے کے اختیارات دیتا ہے۔ 
اس سرکلر میں خاص طور یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ ’یہ چندہ پاکستان کے اندر موجود تنظیمی معاملات کے لیے صرف پاکستان کے اندر اور پاکستانی شہریوں سے ہی اکٹھا کیا جائے گا۔ اس حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اصول و ضوابط کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔‘

’چندہ اکٹھا کرتے وقت الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اصول و ضوابط کو بھی مدنظر رکھا جائے گا‘ (فوٹو: اے ایف پی)
اس ماہانہ چندے کے لیے 10 مختلف کیٹیگریز بنائی گئی ہیں اور ہر کیٹیگری کے لیے علیحدہ علیحدہ فیس رکھی گئی ہے۔ سب سے زیادہ فیس پارٹی کی مرکزی گورننگ باڈی کی رکھی گئی ہے۔ گورننگ باڈی کے تمام ممبران کو ہر ماہ 20 ہزار روپے پارٹی فنڈ میں جمع کروانا ہوں گے۔
دوسرے نمبر پر پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیو باڈی ہے جس کے تمام ممبران کو ہر ماہ 10 ہزار روپے پارٹی فنڈ میں جمع کروانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
اسی طرح ریجنل، ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر موجود تنظیموں کے لیے بھی علیحدہ فیس رکھی گئی ہے۔
سب سے کم فیس البتہ یونین کونسل کی سطح کے ممبران کے لیے ہیں۔ یونین کونسلز کی گورننگ باڈیز کے ممبران سے 500 روپے ماہانہ جبکہ ایگزیکٹیو ممبران سے 100 روپے ماہانہ لیے جائیں گے۔ 
پاکستان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ ’یہ پہلی دفعہ دیکھنے میں آرہا ہے کوئی سیاسی پارٹی ایک منظم طریقے سے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے چندہ اکٹھا کر رہی ہے۔‘

ایگزیکٹیو ممبران سے 100 روپے ماہانہ لیے جائیں گے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
’پوری دنیا میں ایسے ہوتا ہے کہ پارٹیوں کے اپنے کارکن پارٹی چلانے کے لیے خود چندہ دیتے ہیں۔ برطانیہ میں ایسے ہوتا ہے، لیبر پارٹی کے اپنے کارکن چندہ دیتے ہیں۔ ڈیموکریٹس بھی دیتے ہیں، اور تحریک انصاف کو تو ایک سہرا یہ بھی جاتا ہے کہ انہوں نے بیرون ملک پاکستانیوں اور اپنے کارکنوں سے سب سے زیادہ چندہ اکٹھا کیا۔‘
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ’یہ ضرور ہوا ہے کہ اس کی شفافیت پر ابھی بھی سوال موجود ہے اور الیکشن کمیشن میں کیس بھی چل رہا ہے، لیکن آپ کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کم از کم سیاسی پارٹی کو جیسے ہونا چاہیے اور مالی طور پر خودمختار پارٹی بننے کی وہ کوشش کر رہے ہیں۔ ‘
انہوں نے بتایا کہ ’پاکستان کی سیاسی پارٹیاں عام طور پر الیکشن ٹو الیکشن یا ایونٹ ٹو ایونٹ چلتی ہیں۔ کوئی خرچہ کسی کے ذمے لگا دیا تو کوئی کسی کے۔ نچلی سطح سے ایسے ایک ایک عہدیدار سے چندہ لینے کا رواج ابھی تک تو اِدھر نہیں ہے۔ اگر یہ کامیاب ہوتے ہیں تو بڑی بات ہے۔
اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف سینٹرل پنجاب کے سیکریٹری جنرل علی امتیاز وڑائچ نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عہدیداروں سے ہر ماہ پیسے لینا پارٹی پالیسی ہے۔‘

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ’تحریک انصاف مالی طور پر خود مختار پارٹی بننے کی کوشش کر رہی ہے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
’دو ہی راستے ہیں ایک تو یہ کہ ہم سرمایہ کاروں کو لے کر آئیں۔ کوئی ہمارے دفتر کے بل ادا کر دے اور کوئی کرایہ۔ لوگ پھر کہیں گے کہ فلاں اے ٹی ایم آگئی ہے پارٹی میں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہم خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں اور اپنے معاملات خود حل کریں تو ہماری جماعت نے دوسرا راستہ اپنایا ہے۔‘
علی امتیاز وڑائچ کے مطابق ’ہماری پارٹی برسر اقتدار ہے اور اس صورت میں زیادہ سے زیادہ لوگ پارٹی کے اندر پیسہ لگانے کو تیار ہیں لیکن ہمیں خوشی ہے کہ ہم نے آسان راستہ نہیں چنا۔ اس کو آپ چندہ کہہ لیں یا ماہانہ فیس یہ پارٹی دفاتر کے خرچے پورے کرنے کے لیے ہے۔‘
’پہلے یہ فیس تھوڑی زیادہ تھی لیکن اب اسے کم کر دیا گیا ہے۔ جیسے یونین کونسل کی سطح پر یہ پانچ ہزار تھی لیکن اب پانچ سو کر دی گئی ہے۔ یہ قابل عمل ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہماری یہی کوشش ہے کہ اس نئے ماڈل کو کامیاب بنائیں اور ثابت کریں کہ کوئی پارٹی اپنے پاوں پر بھی کھڑی ہو سکتی ہے۔‘