تحریک انصاف کی حکومت کا 8 ہزار ارب روپے کا تیسرا وفاقی بجٹ

پاکستان کی قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے لیے تقریباً آٹھ ہزار ارب روپے کا نیا سالانہ بجٹ آج پیش ہوگا جس کا خسارہ تین ہزار 50 ارب روپے بتایا جا رہا ہے۔
ٹیکس آمدن کا ہدف 5820 ارب اور نان ٹیکس آمدن کا ہدف 1420 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 15 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
مزید پڑھیں
دستاویز کے مطابق کابینہ ڈویژن کے لیے 33 ارب ،ایوی ایشن ڈویژن کے لیے 14 ارب، وزارت تجارت کے لیے 17 ارب روپے اور وزرات مواصلات کے لیے 239 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔
وزارت تعلیم و تربیت کے لیے 22 ارب روپے جبکہ وزارت خارجہ کے لیے 22 ارب 78 کروڑ روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ آئندہ مالی سال میں وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے لیے 14 ارب، صنعت و پیداوار کے لیے سات ارب، وزارت اطلاعات کے لیے 11 ارب اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے 14 ارب روپے رکھے جائیں گے۔
وزارت داخلہ کو 160 ارب روپے، وزارت امور کشمیر، شمالی علاقہ جات و گلگت بلتستان کو 199 ارب، وزارت قانون کو 18 ارب جبکہ وزارت غذائی تحفظ کو29 ارب روپے ملیں گے۔
اس سے قبل گذشتہ روز اسلام آباد میں اقتصادی سروے 2021-2020 پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا تھا کہ ’کورونا کی وجہ سے پاکستان کی معیشت متاثر ہوئی تاہم درست پالیسیوں کی بدولت اس کے اثرات کو زائل کیا گیا اور پچھلے سال جولائی سے معاشی سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہوئیں۔‘
شوکت ترین کے مطابق پچھلے بجٹ کے وقت حکومت کا اندازہ دو اعشاریہ ایک فیصد شرح نمو کا تھا جبکہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کا اندازہ اس سے کم تھا تاہم حکومت کی جانب سے جو فیصلے کیے گئے جن میں زراعت اور تعمیراتی شعبوں کے لیے مراعات شامل تھیں ان کی وجہ سے شرح نمو بہتر ہوئی۔

شوکت ترین کے مطابق ’بجٹ میں غریبوں کو سب سے زیادہ ترجیح دی گئی ہے‘ (فوٹو اے ایف پی)
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’کپاس کی فصل خراب ہونے کے باعث اندیشہ تھا کہ اس کی شرح نمو شاید منفی میں چلی جائے تاہم وہ دو اعشاریہ 77 فیصد تک رہی، اسی طرح دوسری فصلوں گندم، چاول، گنے اور مکئی کی ریکارڈ پیداوار سامنے آئی۔‘
شوکت ترین کے مطابق ’اس بجٹ میں غریبوں کو سب سے زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔ آئی ایم ایف سے کہہ دیا ہے کہ غریب پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے۔‘