ترقیاتی پروگرام کا حجم 2ہزار 201ارب روپے ہوگا، اسدعمر

سماجی منصوبوں کیلئے 31فیصد رقم مختص ہوگی، عاصم سلیم باجوہ

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسدعمر کہتے ہیں کہ قوموں کو ٹینکوں اور بندوقوں کے ذریعے متحدہ نہیں رکھا جاسکتا، ترقی کرنی ہے تو زراعت اور صنعت کو فروغ دینا ہوگا، آئندہ بجٹ میں ترقیاتی پروگرام کا حجم 36 فیصد اضافے سے 2 ہزار 201 ارب روپے ہوگا۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اسد عمر نے سی پیک چیئرمین عاصم سلیم باجوہ کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ تمام علاقوں کو ترقی کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں، ترقی کرنی ہے تو زراعت اور صنعت کو فروغ دینا ہوگا، قوموں کو ٹینکوں اور بندوقوں کے ذریعے متحد نہیں رکھا جاسکتا، سوشل سیکٹر اور تعلیم میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت ہے۔

اسد عمر نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ترقياتی پروگرام کا حجم 36 فیصد اضافے سے 2 ہزار 201 ارب روپے ہوگا، پانی کے شعبے کيلئے 10 فيصد فنڈز مختص کئے جارہے ہيں، توانائی اور ٹرانسپورٹ کیلئے 56 فیصد فنڈز مختص کئے گئے ہیں، سائنس و ٹيکنالوجی، آئی ٹی کيلئے 2 فیصد اضافے سے اگلے بجٹ کا 5 فيصد مختص ہوگا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت اگلے سال ترقیاتی منصوبوں پر 900 ارب روپے خرچ کرے گی، 40 فیصد فنڈز بجلی منصوبوں اور سڑکوں کی تعمیر پر خرچ ہوں گے، سماجی منصوبوں کیلئے 31 فیصد رقم مختص ہوگی، موٹر ویز، ہائی ویز اور ایئر پورٹس کی تعمیر پر 244 ارب خرچ ہوں گے، گوادر ایئر پورٹ کو مکمل کیا جائے گا۔

اسد عمر کا مزید کہنا تھا کہ 530 ارب سے زیادہ کے منصوبے اگلے اکتوبر تک شروع ہوں گے، تین بڑے ڈیمز دیامر بھاشا، مہمند اور داسو پر بیک وقت کام شروع کردیا گیا۔

عاصم سلیم باجوہ کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا ہے پسماندہ علاقوں پر زیادہ توجہ دی جائے، سی پیک کے تحت پسماندہ علاقوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے، سی پیک مغربی روٹ رواں سال کے آخر میں کھول دیا جائے گا، خوشاب سے آوران تک شاہراہ پر کام جاری ہے، اگلے سال آواران سے خضدار تک شاہراہ پر کام شروع کریں گے۔

متعلقہ خبریں