’ترک شہری ملک میں جمہوریت کی صورتحال پر تشویش کا شکار‘

منگل 8 جون 2021 9:50

سروے کے نصف جواب دہندگان نے چین کے عالمی اثر و رسوخ کو منفی قرار دیا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ایک نئے سروے میں کہا گیا ہے کہ ترک شہری ملک میں جمہوریت کی صورتحال پر تشویش کا شکار ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق پیر کو شائع ہونے والے سروے میں 63 فیصد جواب دہندگان کا ماننا ہے کہ ملک میں جمہوریت کا حال برا ہے جبکہ 39 فیصد کہتے ہیں کہ وہ خطرے میں ہے۔
اس سروے میں ترک افراد کی سیکورٹی، سیاست اور ٹرانس اٹلانٹک تعاون پر رائے کا پتا لگایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
یہ نتائج ٹرانس اٹلانٹک ٹرینڈز 2021 سروے کا حصہ ہیں جو کہ امریکہ کے جرمن مارشل فنڈ کی جانب سے کیا گیا ہے اور اسے ترکی میں کونریڈ ایڈنور سٹفٹو نامی ادارے نے سپانسر کیا ہے۔  
یہ سروے ترک صدر رجب طیب اردوغان اور ان کے امریکی ہم منصب جو بائیڈن کی برسلز میں نیٹو اجلاس کے دوران 14 جون کو ہونے والی اہم ملاقات سے قبل سامنے آیا ہے۔
سروے کے مطابق، ترک افراد کا ماننا تھا کہ ان کے ملک کو اس وقت جو سب سے اہم سکیورٹی چیلنجز درپیش ہیں ان میں وبا، دہشتگردی اور ہجرت شامل ہے۔
ایک تہائی جواب دہندگان مشرق وسطیٰ میں ترک فوج کی مداخلت میں کمی چاہتے تھے۔
سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 40 فیصد جواب دہندگان جرمنی کو یورپ میں سب سے بااثر ملک مانتے تھے اور 25 فیصد کے لیے برطانیہ سب سے بااثر ملک تھا۔

ترک افراد کا ماننا تھا کہ ان کے ملک کو وبا، دہشتگردی اور ہجرت سے متعلق چیلنجز درپیش ہیں۔ (فوٹو: ان سپلیش)
سروے کے مطابق 22 فیصد جواب دہندگان کا ماننا تھا کہ عالمی صحت، 15 فیصد کے خیال میں تجارت اور 15 فیصد ہی کے خیال میں انسانی حقوق ٹرانس ایٹلانٹک تعاون کی ترجیحات ہونی چاہیے۔
کونریڈ ایڈنور سٹفٹو کے ترکی میں ڈائریکٹر والٹر گلوس نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’جرمنی اور ترکی کو لاکھوں افراد کے ذاتی اور ثقافتی تعلقات آپس میں جوڑتے ہیں جو کہ ترک تارکین وطن اور ان کی آنے والی نسلوں کو وجہ سے بنے ہیں۔‘
‘اس کے علاوہ جرمنی اب بھی ترکی کا سب سے بڑا تجارتی ساتھی اور غیر ملکی سرمایہ کار ہے۔’
سروے کے نصف جواب دہندگان نے چین کے عالمی اثر و رسوخ کو منفی قرار دیا اور چین کو دوست کے بجائے حریف کے طور پر بتایا۔
تقریباً نصف افراد نے توقع کی کہ ترک حکومت چین کی انسانی حقوق کی حلاف ورزیوں پو اس کے ساتھ سخت رویہ رکھے۔