ترین گروپ کا سینیٹر علی ظفر کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا مطالبہ

جہانگیر ترین گروپ نے تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر علی ظفر کی مرتب کردہ رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ 
ترین گروپ کے رکن اور ایم پی اے نذیر احمد چوہان نے سنیچر کو لاہور میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’ہمارا مطالبہ ہے کہ علی ظفر کی رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے اور اس رپورٹ میں جو بھی ہوگا اسے ہم من و عن تسلیم کریں گے۔‘
مزید پڑھیں
لاہور میں صوبائی وزیر نعمان لنگڑیال نے ترین گروپ اور حکومتی کمیٹی کے اعزاز میں ظہرانہ دیا جس میں وفاقی وزیر فواد چوہدری اور پارٹی کے سیکرٹری جنرل عامر کیانی نے شرکت کی۔ 
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ترین گروپ کی جانب سے دیے گئے ظہرانے میں شرکت کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ’وزیراعظم عمران خان نے ترین گروپ کے مسائل کو حل کرنے کی ذمہ داری عامر کیانی، سیف اللہ نیازی اور مجھے سونپی ہے اور وزیراعظم کی ہی ہدایت پر آج ہم ظہرانے میں شریک ہوئے ہیں۔‘
وفاقی وزیر نے علی ظفر کی رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ ’علی ظفر کی رپورٹ کا ہمیں اور ترین گروپ کو بھی انتظار ہے، وہ رپورٹ پارٹی کے اندرونی معاملات کو طے کرے گی۔ جہاں تک جہانگیر ترین کے کیسز کی بات ہے وہ ایک قانونی معاملہ ہے، ان کے کیسز پر نہ ترین صاحب کوئی ریلیف مانگیں گے اور نہ ہی عمران خان ان کو کوئی غیر معمولی فائدہ دیں گے۔‘

صوبائی وزیر نعمان لنگڑیال نے ترین گروپ اور حکومتی کمیٹی کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔ (فوٹو: فیس بک نعمان لنگڑیال)
پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’ترین گروپ کے تحفظات سنے ہیں اور ان کا جو نقطہ نظر ہے اس میں بھی کافی وزن ہے۔ ترین گروپ میں سیاسی طور پر کافی تجربہ کار سیاستدان ہیں اور تحریک انصاف کو ان کے تجربے سے استفادہ حاصل کرنا چاہیے۔‘
انہوں نے ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’جہانگیر ترین کے معاملات پر حکومت کا واضح موقف ہے۔ مجھے یقین ہے کہ نہ جہانگیر ترین عمران خان سے کسی غیر قانونی سفارش کی توقع کریں گے اور نہ عمران خان کا یہ مزاج ہے۔‘
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ترین گروپ نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، چھوٹے موٹے مسائل ہو جاتے ہیں اور ان پر بات چیت کی جائے گی۔‘
’اپوزیشن کے لوگوں کو غلط فہمی ہو جاتی ہے اور وہ لڈیاں ڈالتے ہیں کہ تحریک انصاف کے اندر اختلاف پیدا ہوگئے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ وہ لڈیاں اب ختم ہو جائیں گی۔‘