تصاویر: یورپ میں طوفانی بارشوں و سیلاب سے تباہی، 126 ہلاکتیں

یورپ میں حالیہ غیرمعمولی بارشوں کے بعد سیلاب سے جہاں مالی نقصان ہوا ہے وہیں جمعہ کے روز ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 126 ہو گئی ہے۔

جرمنی میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 103 سے زائد ہو چکی ہے۔

جرمنی کا مغربی علاقے سیلابی صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں متعدد لاپتہ افراد کی تلاش کا کام بھی جاری ہے۔

جرمن میڈیا کی جانب سے ’موت کا سیلاب‘ کہے جانے والی سیلابی صورتحال نے متعدد علاقوں کے مکینوں کو اس حال میں گرفت میں لیا کہ وہ ایسے کسی خدشے کے تصور سے بھی کوسوں دور تھے۔

سیلابی صورتحال کا شکار ہونے والے جرمنی کے متعدد اضلاع کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔

بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں سیلابی پانی گھروں میں داخل ہو چکا ہے۔

متاثرہ شہری بارشوں اور سیلاب کے پانی سے بچنے کے لیے اپنے گھروں کی چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

غیر متوقع تیز بارش سے جرمنی کے پڑوسی ممالک لکسمبرگ، نیدرلینڈز اور بیلجیئم بھی طوفان کی زد میں آئے ہیں۔

جرمنی کے متاثرہ علاقوں میں جن مقامات سے سیلابی پانی اترا ہے وہ گلیوں میں الٹی ہوئی گاڑیاں پڑی ہیں۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک جرمن شہری کا کہنا تھا کہ ’15 منٹ کے قلیل وقفے میں سب کچھ پانی میں ڈوب چکا تھا۔‘

جرمنی میں دوسری عالمی جنگِ عظیم کے بعد موجودہ سیلاب کو بدترین آفت قرار دیا جارہا ہے۔

جرمنی میں سیلاب نے جہاں دیگر معمولات زندگی کو متاثر کیا وہیں منٹوں میں سب کچھ ڈبو دینے والی صورتحال نے کئی افراد کا معاش بھی خراب کیا ہے۔ مغربی جرمنی کی رہائشی کورنیلیا شولوسر کا 100 برس سے قدیم خاندانی کاروبار، بیکری بھی پانی کی تباہی کا شکار ہونے والے تجارتی مراکز میں شامل ہے۔

تصاویر: اے ایف پی