’تمسخر کا نشانہ بنایا گیا‘: نسلی تعصب کا شکار 83 سالہ انڈین کرکٹر

انڈیا کی کرکٹ ٹیم کے سابق وکٹ کیپر اور بیٹسمن فرخ انجینیئر نے انگلینڈ میں نسلی تعصب کا شکار ہونے کے بارے میں بات کی ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے انگلینڈ کی ٹیم کے فاسٹ بولر اولی رابنسن کو انگلینڈ اور ویلز کے کرکٹ بورڈ نے معطل کردیا تھا کیونکہ ان کے خلاف 2012 اور 2013 میں کی جانے والی نسلی اور جنسی تعصب پر مبنی ٹویٹس سے متعلق تحقیقات زیر التوا تھیں۔
مزید پڑھیں
اس واقعے کے بعد فاروخ انجینیئر نے کہا کہ کرکٹ بورڈ نے اولی رابنسن کے خلاف بالکل ٹھیک فیصلہ کیا ہے۔
اس سے متعلق اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انڈیا سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انہیں بھی کئی موقعوں پر نسلی تعصب کا سامنا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’لہجے کی وجہ سے تمسخر کا نشانہ بنایا گیا۔‘
‘جب میں نے پہلی بار کاؤنٹی کرکٹ شروع کی تھی، اس وقت میرے انڈیا سے تعلق رکھنے پر سوالات کھڑے ہوئے تھے۔ میں نے ایک یا دو بار اس (نسلی تعصب) کا سامنا کیا جب میں لینکشائر کا حصہ بنا۔’
انڈین ایکسپریس کے مطابق فاروخ انجینیئر نے بتایا کہ ان کے انڈیا سے تعلق رکھنے اور ان کے لہجے کی وجہ سے انہیں ایسے ریمارکس کا سامنا رہا تھا۔

فاروخ انجینیئر کا کہنا تھا انہوں نے کرکٹ کی دنیا میں اپنی کارکردگی سے خود کو منوایا (فوٹو: ان سپلیش)
تاہم 83 سالہ فاروخ انجینیئر کا کہنا تھا کہ ان کی انگریزی باقی انگریزی بولنے والے افراد سے بہتر ہے اور انہوں نے جلد ہی اپنے آپ کو اپنے کام کے ساتھ بھی منوایا تھا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ انڈین پریمیئر لیگ کی وجہ سے بھی سابق غیر ملکی کھلاڑیوں کے رویے میں تبدیلی آئی ہے۔
‘کچھ سال پہلے تک ہم سب ان کے لیے بلڈی انڈینز تھے۔ اب چونکہ آئی پی ایل شروع ہو گیا ہے وہ ہمارے پیچھے ہیں، تاہم مجھ جیسے لوگ جانتے ہیں کہ ان کی ابتدا میں اصلیت کیا تھی۔‘