توہین آمیز الفاظ سے پکارنے پر دو تماشائی گراؤنڈ سے باہر

انگلینڈ کے شہر ساؤتھمپٹن میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے فائنل کے دوران منگل کو دو تماشائیوں کو نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں کو توہین آمیز الفاظ سے پکارنے پر سٹیڈیم سے نکال دیا گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انڈین ٹیم کے مداحوں سے بھرے سٹیڈیم میں وراٹ کوہلی کے حق میں آوازیں گونج رہی تھیں۔
مزید پڑھیں
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے مطابق اس دوران انہیں نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں کو توہین آمیز الفاظ سے پکارے جانے کی شکایات موصول ہوئیں۔
آئی سی سی نے کہا ہے کہ ‘ہماری سکیورٹی ٹیم نے توہین آمیز القابات کہنے والوں کی شناخت کی اور انہیں گراؤنڈ سے نکال دیا۔ ہم کرکٹ میں کسی طرح کا ناروا سلوک برداشت نہیں کریں گے۔’
میچ کے بعد ہونے والی نیوز کانفرنس میں نیوزی لینڈ کے ٹم سودھی نے کہا کہ ‘یہ پہلی بار ہے کہ میں نے یہ سنا۔ فیلڈ میں کھیل ہمیشہ اچھے رویے کے ساتھ کھیلا گیا ہے۔’
کرکٹ گراؤنڈ میں کھلاڑیوں کے ساتھ اس قسم کا ناروا سلوک پہلی بار نہیں ہوا ہے۔
اس سے قبل جنوری میں انڈیا اور آسٹریلیا کے درمیان ایک ٹیسٹ میچ کے دوران سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں انڈیا کے کھلاڑیوں کو نسلی بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے مقامی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ جسپریت بمرا اور محمد سراج نے فیلڈنگ کے دوران باؤنڈری کے قریب نسل پرستانہ کلمات سننے کی شکایت کی تھی۔ اس پر انڈین کرکٹر اجنکیا ریہانے اور دیگر سینیئر کھلاڑیوں نے امپائرز سے میچ کے بعد بات کی تھی۔

انڈین ٹیم کے مداحوں سے بھرے سٹیڈیم میں وراٹ کوہلی کے حق میں آوزیں گونج رہی تھیں۔ فوٹو: اے ایف پی
واقعے کے بعد کرکٹ آسٹریلیا نے انڈین کرکٹ ٹیم سے معذرت کر لی تھی۔
کرکٹ آسٹریلیا کے سکیورٹی سربراہ سین کیرول کا کہنا تھا کہ بحیثیت میزبان وہ انڈین کھلاڑیوں سے معذرت خواہ ہیں۔
انہوں نے واقعے کی مکمل تحقیقات اور ملزم کے خلاف سخت ترین اقدامات کا یقین دلایا تھا۔