تھائی لینڈ: کورونا کیسز سامنے آنے پر مقابلہ حسن میں شریک حسیناؤں سے تحقیقات

تھائی لینڈ میں منعقد ہونے والے مقابلہ حسن میں شریک حسیناؤں کے ماسک نہ پہننے پر انہیں مجرمانہ الزامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مقابلہ حسن کی تقریب منعقد کرنے سے کورونا وائرس کے 22 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد پولیس حکام نے خبردار کیا ہے کہ ’مقابلے میں حصہ لینے والی حسیناؤں پر مجرمانہ الزامات عائد کیے جا سکتے ہیں۔‘
جون کے آخر میں بینکاک میں منعقد ہونے والے ’مس گرینڈ‘ مقابلہ حسن میں حصہ لینے والی 13 حسیناؤں اور عملے کے نو افراد کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
تھائی لینڈ کو کورونا وائرس کی تیسری اور مہلک لہر کا سامنا ہے۔ سنیچر کو وائرس کے نو ہزار 539 نئے کیسز سامنے آئے تھے جبکہ 86 افراد ہلاک ہوئے۔
مزید پڑھیں
بینکاک میٹرو پولیٹن پولیس کے ڈپٹی کمشنر پیا تاویچائی نے اتوار کو صحافیوں کو بتایا کہ ’مقابلہ حسن میں حصہ لینے والوں سمیت تقریب کے دیگر شرکا نے بھی ممکنہ طور پر کورونا کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے۔‘
پولیس کے مطابق ’منتظمین نے تقریب منعقد کرنے کی اجازت لی تھی تاہم ماسک پہننے سمیت 20 واضح قواعد پر عمل درآمد لازمی تھا۔‘
ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ’تقریب کے شرکا نے ماسک نہ پہن کر ہنگامی صور تحال سے متعلق فرمان اور بیماریوں پر قابو پانے کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔‘
پولیس کے مطابق ’منتظمین اور شرکا سے تفتیش کی جا رہی ہے اور انہیں مجرمانہ الزامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

 مقابلہ حسن میں حصہ لینے والی 13 حسیناؤں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے (فوٹو: مس گرینڈ)
تقریب کی فیس بک پر شیئر ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مقابلے میں حصہ لینے والی حسیناؤں نے ماسک نہیں پہنا ہوا تھا اور نہ ہی سماجی فاصلے کی پابندی کی گئی تھی۔
گذشتہ ہفتے حکومت نے بینکاک سمیت دیگر نو صوبوں میں پیر سے کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کرفیو کے دوران رات نو بجے سے صبح چار بجے تک شہریوں کے گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی عائد رہے گی۔
تھائی لینڈ میں اب تک تین لاکھ 36 ہزار 371 کورونا کے کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ دو ہزار 711 افراد کی موت واقع ہو چکی ہے۔ 
تھائی لینڈ کو ہسپتالوں میں بستروں کی کمی کا سامنا کر پڑسکتا ہے، جبکہ پہلے ہی حکومت کو ویکسین لگانے میں سست روی پر تنقید کا سامنا ہے۔