تھرکول میں مزدور کا قتل، ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف اسلام کوٹ میں دھرنا

سندھ کے شہر اسلام کوٹ میں واقع تھرکول بلاک 2 میں سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کی انتظامیہ پر مزدور ڈوڈو بھیل کے قتل کا مقدمہ درج ہونے کے باوجود نامزد ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف بھیل برداری کے سینکڑوں افراد نے دھرنا دے دیا ہے۔
بھیل انٹلیکچول فورم کے صدر اور تحریک انصاف کے رہنما لجپت سورانی کی سربراہی میں بھیل برادری کے سینکڑوں افراد نے اتوار کو اسلام کوٹ شہر میں دھرنا دیا ہے۔
مظاہرین سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کی جانب سے مزدوروں سے مبینہ طور پر ظالمانہ رویہ روا رکھے جانے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔
مزید پڑھیں
ان کا الزام ہے کہ ’ڈوڈو بھیل کے قتل کی ایف آئی آر درج ہونے اور ملزمان کی نامزدگی کے باوجود کمپنی انتظامیہ ان کا دفاع کر رہی ہے اور گرفتاری رکوانے کے لیے اثر و رسوخ استعمال کر رہی ہے۔‘
تاہم دو روز قبل حوالے سے سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’انہیں ڈوڈو بھیل کی ہلاکت پر افسوس ہے اور انتظامیہ موت کی تحقیقات میں ہر ممکن تعاون کرے گی۔‘
قتل کے الزامات کے پر کمپنی نے کوئی جواب دینے سے اجتناب کیا تھا اور کہا کہ وہ دکھ کی گھڑی میں بھیل برادری کے ساتھ ہیں۔
اسلام کوٹ میں جاری دھرنے میں بھیل برادری کے علاوہ تھرپارکر میں بسنے والی دیگر برادریوں کے افراد بھی شریک ہیں۔
 

اسلام کوٹ میں جاری دھرنے میں ایس ایس پی تھرپارکر حسن سردار نیازی کے خلاف بھی نعرے بازی کی جا رہی ہے۔ (فوٹو: حنیف سموں)
اسلام کوٹ میں جاری دھرنے میں ایس ایس پی تھرپارکر حسن سردار نیازی کے خلاف بھی نعرے بازی کی جا رہی ہے۔ بھیل برادری کا کہنا ہے کہ ’پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کی بجائے انہوں علاقے سے چلے جانے میں مدد فراہم کی۔‘
خیال رہے کہ قبل ازیں ایس پی تھرپارکر حسن سردار نیازی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ’گرفتاری کے وقت اور نہ ہی مجسٹریٹ کے سامنے کسی بھی ملزم نے تھرکول بلاک 2 کی انتظامیہ کی جانب سے زیادتی یا تشدد کے حوالے سے کوئی شکایت کی۔‘
احتجاج میں بڑی تعداد میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں۔ اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما لجپت سورانی نے کہا کہ ’تھرکول بلاک 2 میں اتنی سخت سکیورٹی ہے کہ وہاں منتخب سیاسی رہنما ایم پی اے، ایم این اے بھی نہیں جا سکتے، ایسے میں یہ کہنا کہ عام سے مزدوروں نے وہاں سے چوری کر لی اور سامان باہر لے آئے، ایسا ناممکن سا لگتا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ڈوڈو بھیل اور دیگر مزدور اگر چوری میں ملوث تھے یا ان کا کوئی جرم تھا تو انہیں عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے تھا نہ کہ ان پر وحشیانہ تشدد کر کے انہیں قتل کیا جائے۔‘
تھرپارکر کے دیگر شہروں مٹھی، ڈیپلو، ننگر پارکر، چھاچھرو میں بھی ڈوڈو بھیل کے مبینہ قتل کے خلاف ریلیاں نکالی جا رہی ہیں اور تاجروں کی جانب سے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے۔