تیرہ سالہ مغویہ کے زبردستی نکاح کی کوشش، پڑوسی گرفتار

لڑکی 17جون کو حیدرآباد سے اغواء کی گئی تھی

Your browser does not support the video tag.

حیدرآباد سے اغواء کی گئی 13 سالہ لڑکی کی زبردستی شادی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے پولیس نے اسے بازیاب کرالیا۔

پولیس کے مطابق مذکورہ لڑکی کو 17 جون کو حیدرآباد کے علاقے گوٹھ سنجھر ملاح سے 3 ملزمان نے اسکول جاتے ہوٸے اغواء کرلیا تھا۔

اغواء کے بعد لڑکی کو جعفرآباد لے جا کر قید کردیا گیا اور اس دوران اسے تشدد کا نشانہ بھی بنايا گيا، ملزمان اُس کی زبردستی شادی کروا رہے تھے جس کیلئے ایک نکاح خواں بھی بلاليا گیا تھا تاہم عین نکاح کے وقت پولیس وہاں پہنچ گئی اور لڑکی کو بازیاب کرتے ہوئے ملزمان گرفتار کرلئے۔

اے ایس پی سٹی علینہ راجپر نے سماء کو بتایا کہ ملزمان لڑکی کے پڑوسی نکلے جو واردات کے بعد سے ہی غائب تھے تاہم انہیں فون کی مدد سے ٹریس کرتے ہوئے پولیس پہلے کوٹری اور پھر جعفرآباد پہنچ گئی اور لڑکی کو اغواء کاروں کے چنگل سے آزاد کرالیا۔

متاثرہ لڑکی نے بھی سماء کو بتایا کہ اس کا زبردستی نکاح کروایا جارہا تھا کہ پولیس اس جگہ پہنچ گئی۔ لڑکی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس پر قید کے دوران تشدد بھی کیا گیا تھا۔

پوليس ٹیم جب لڑکی کو لے کر اس کے گھر پہنچی تو والدین نے اظہار تشکر کے طور پر اہلکاروں پر پھولوں کی پتياں نچھاور کیں۔

متعلقہ خبریں