جائے حادثہ پر8میل کاٹریک پہلے بھی مرمت ہواتھا، وزیر ریلوے

سکھر کا ٹریک انتہائی خطرناک ٹریک ہے

Azam Swati

وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی نے کہا ہے کہ سکھر کا ٹریک انتہائی خطرناک ٹریک ہے اور جس جگہ حادثہ ہوا ادھر 8میل کا ٹکڑا پہلے بھی مرمت کیا گیا تھا۔

لاہور ریلوے ہیڈکوارٹر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر ریلوے اعظم سواتی نے کہا کہ ہم نے کئی جگہوں پر قدغن لگائی ہوئی ہیں جہاں ٹرین کی رفتار کم کرنی پڑتی ہے۔ دونوں ٹرینوں کا بلیک باکس لے لیا ہے اور 3 سے 4ہفتوں میں تفصیلی رپورٹ آجائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ٹرین حادثہ 3:30 منٹ پر ہوا جب ملت ایکسپریس کی بوگیاں پٹڑی سے اتر کر دوسرے ٹریک پر چلی گئیں اور اسی دوران سر سید ایکسپریس ملت کی بوگیوں سے آکر ٹکرا گئی۔ 1990 میں بھی اسی طرح ایک حادثہ ہوا تھا۔

اعظم سواتی نے بتایا کہ سرسید ایکسپریس کو ایک سے دو منٹ کا وقت ملا کیونکہ ٹریک پر بریکس کے نشانات ہیں اور اسی ایک سے دو منٹ میں لوگوں نے چلتی ٹرین سے چھلانگیں لگائیں۔

وزیر ریلوے نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں ہر صورت ریلوے ٹریک کو اپ گریڈ کرنا ہوگا اور ایم ایل ون ٹریک پر 60ارب روپے کا خرچ آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون کی تقریباً تیاری ہے اور حکم  کے بعد ٹینڈر جاری کرنے ہیں، چینی سفیر کو ساری سفارشات دی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایم ایل ون میں تاخیر ہے تو مجھے 60ارب روپے دیں ہم 520 کلو میٹر کا خطرناک ٹریک ایم ایل ون کے طرز میں بنا دیں گے۔ یہ ٹریک 30 سے 40 سال تک کام دے گا اور انسانی جانیں بچانے کے لیے یہ اقدام اٹھانا پڑے گا۔

اعظم سواتی نے اعتراف کیا کہ کوچز 40 سے 50 سال پرانی ہیں جس کو ہم تھوڑی تھوڑی دیر بعد ٹھیک کرتے ہیں اور کوئی نئی ٹیکنالوجی نہیں ہے بلکہ پرانی  چیزوں سے ہی خراب چیزوں کو ٹھیک کرنا پڑتا ہے۔ ٹریک 1971 کا ہے اور سلیپر 2003 کے ہیں۔

گھوٹکی ٹرین حادثہ: جاں بحق افراد کی تعداد 66ہوگئی

انہوں نے بتایا کہ مارچ میں ہونے والے حادثے میں کل22 لوگوں کو چارج کیا گیا جس میں بڑے افسران بھی شامل ہیں۔ قانون کے مطابق سزا دینے کے لیے ہر قسم کا قدم اٹھانا پڑتا ہے اور حالیہ حادثے میں بھی 15 دن کے اندر سب کو سزا دی جائے گی۔

اعظم سواتی نے کہا کہ حادثے کے بعد سب سے پہلے جوائنٹ سروے ہوتا ہے وہ بھی ٹھیک نہیں بنایا گیا جس نے جوائنٹ سرٹیفکیٹ بنایا ہے اسکی بھی پکڑ ہوگی۔

وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ زخميوں کو کھانے پينے اور ديگر سہوليات دے رہے ہيں۔ ٹرین حادثے ميں 63 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوئے جبکہ 3 زخميوں کی حالت تشويشناک ہے۔ ٹرین حادثے میں کچھ لوگ معذور ہوگئے ہیں۔ قانون کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کو 15لاکھ روپے ديے جائیں گے جبکہ50 ہزار سے لے کر 3لاکھ روپے تک زخميوں کو ديے جائیں گے۔

واضح رہے کہ بدھ9 جون کو بھی پشاور سے کراچی جانے والی خیبر میل ایکسپریس کی بوگی حیدرآباد کے قریب پٹڑی سے اتر گئی تھی تاہم حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اس سے قبل پیر 7جون کی صبح 3بج کر 38 منٹ پر کراچی سے سرگودھا جانے والی ملت ایکسپریس کی 4بوگیاں پٹری سے اتر کر ڈاؤن ٹریک پر جا گریں جو راولپنڈی سے کراچی آنے والی سرسید ایکسپریس سے ٹکرا گئیں۔

حادثے کے نتیجے میں اب تک 60 سے زائد افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہیں جبکہ بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ ڈی ایس ریلوے سکھر کے مطابق ٹرین حادثے میں 14 بوگیاں متاثر ہوئیں جبکہ 3 مکمل طور پر تباہ ہوئیں۔

ڈہرکی میں ٹرین حادثے کے بعد ریسکیو آپریشن مکمل کرکے دونوں ٹریک بحال کر دیے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں