جاوید لطیف نے پاکستان کھپے، نہ کھپے کی بحث پھر چھیڑ دی

ندیم ملک لائیو میں گفتگو

Your browser does not support the video tag.

رہنما ن لیگ جاوید نے کہا ہے کہ مجھے وہ پاکستان نہیں چاہیے جو چند لوگوں کی جاگیر بن جائے، میں اس پاکستان کے لیے کھپے کہوں گا جو ہمارے بڑوں نے ایک مقصد کے لیے حاصل کیا تھا جبکہ یہ وہ پاکستان نہیں ہے۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ مجھے وہ پاکستان نہیں چاہیے جو چند لوگوں کے ہاتھوں میں ہو، غلطیوں کی نشاندہی اگر جرم ہے تو پھر یہ سب کا پاکستان نہ ہوا طاقتوروں کا ہوا۔

رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ مجھے وہ پاکستان چاہیے جس میں مجھے بھی بولنے کی آزادی ہو یہ طریقہ نہیں ہے کہ میں غلطیوں کی نشاندہی کروں تو وہ مجھے جیل میں ڈال دیں۔

جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان کے وقت انڈیا سے پاکستان آنے والے قافلوں کی حفاظت میرے بزرگوں نے اپنے سینے چھلنی کرواکر کی۔

انہوں نے کہا کہ صرف زندہ باد کہنے سے ملک ترقی نہیں کرے گا اس کےلیے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے اگر ایسا ہے تو پھر 22 کروڑ عوام کو صبح شام زندہ باد کے نعرے لگانے چاہئیں۔

جاویدلطیف کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ فوج زندہ باد کہا ہے کبھی مردہ باد نہیں کہا اور آرمی کے جوان جب ہمیں دیکھتے ہیں تو ان کے چہروں پر رونق آجاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت تنقید کریں گے جب آئین سے ماورا کوئی قدم اٹھایا جائے لیکن اگر جوان جانیں قربان کریں گے تو ہم انہیں سلام کریں گے۔ جاویدلطیف کا کہنا تھا کہ اس وقت بھی ملک آئین اور قانون کے مطابق نہیں چلایا جارہا۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما تحریک انصاف زرتارج گل کا کہنا تھا کہ پاکستان ہر صورت میں کھپے ہمیں انصاف ملتا ہو یا نہ ملتا ہو ہم بول سکیں یا نہ بول سکیں لیکن ہم پاکستان کھپے کا نعرہ لگائیں گے اگر کہیں ناانصافی ہورہی ہے تو اس کےلیے عدالتوں کے دروازے کھلے ہیں۔

زرتاج گل کا کہنا تھا اگر کسی عدالت سے ن لیگ رہنماؤں کی ضمانت منظور ہوجائے تو یہ اس پر شادیانے بجاتے ہیں لیکن جب عدالت نوازشریف کو مفرور قرار دے تو وہ انہیں منظور نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں دو معیارات نہیں رکھنے چاہئیں کہ جس الیکشن میں ن لیگ جیت جائے تو وہ ٹھیک لیکن جہاں ہار جائے وہاں دھاندلی کا الزام لگادیا جاتا ہے۔

زرتاج گل کا کہنا تھا کہ اگر ن لیگ کو بیلٹ پیپر پر یقین نہیں تو اس کا مطلب یہ ووٹوں کی خریدو فروخت پر یقین رکھتے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر پر عالمی طاقتوں کی نظر ہے مگر ن لیگ نے وہاں کونسلر لیول کی خاتون کو الیکشن مہم کے لیے بھیجا جس کی وجہ سے الیکشن مہم میں صوبائیت اور لسانیت کے نعرے لگائے گئے۔

زرتاج گل کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کا بیانیہ حتم ہوچکا ہے اور قائد ن لیگ لندن فرار ہوچکے ہیں اور عدالت کے کہنے کے باوجود واپس نہیں آرہے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی الیکشن ہوا نہیں لیکن مریم نواز شکست کا بہانہ ڈھونڈنے کےلیے وجوہات ڈھونڈ رہی ہیں۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما پیپلزپارٹی آغا رفیع اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نہ کھپے والی بات کسی بھی حال میں نہیں کہنی چاہیے لیکن یہ تاثر دینا بھی غلط ہے کہ صرف سیاستدان ہی برے ہیں۔

آغارفیع اللہ کا کہنا تھا کہ ملک کی بہتری کی ذمہ داری سب پر عائد ہوتی ہے لیکن سیاستدانوں کی ذمہ داری زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج کس ملک میں نہیں ہوتی جس ملک میں اس کی اپنی فوج نہیں ہوگی تو پھر ظاہر ہے وہاں دوسرے ملک کی فوج ہوگی۔

آغارفیع اللہ کا کہنا تھا کہ کسی کو بغیر وجہ بتائے اٹھانا غیرقانونی ہے اور یہ ماورائے عدالت کام نہیں ہونا چاہیے لیکن جمہوریت کی بقاء کے لیے سیاستدانوں کو مزید قربانیاں دینی پڑیں گی۔

شیخ رشید کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے آغارفیع اللہ کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے یہ طے کیا ہوا ہے کہ کشمیر کا الیکشن ہر صورت جیتنا ہے ورنہ اس بات کا کیا مطلب ہے کہ تحریک انصاف کی جیت ریجن کے لیے ضروری ہے۔

پروگرام میں تینوں مہمانوں نے اس بات پر اتفاق بھی کیا کہ جنرل پرویز مشرف کے خلاف پاکستانیوں کو امریکا کے حوالے کرنے اور نوازشریف کی طرف سے اسامہ بن لادن سے فنڈ لینے کے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

متعلقہ خبریں