جب تک پارٹی چاہے گی وزیراعلیٰ سندھ رہوں گا، مرادعلی شاہ

حریم شاہ کا چرچہ سندھ اسمبلی میں نہیں بلکہ میڈیا میں ہی ہے

مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وزارت اعلیٰ کی مدت پوری کروں گا اور کسی کی خواہش ہر عہدے سے دستبردار نہیں ہوں گا۔

بدھ کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتےہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ نوری آباد پاور پلانٹ کیس میں آج فرد جرم عائد نہ ہوسکی۔ کچھ قانونی معاملات کی وجہ سے عدالت نے 28 جولائی کی تاریخ دی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سندھ اسمبلی میں بجٹ پیش کرنے کے وقت اپوزیشن نے بہت شور شرابا کیا تاہم بجٹ تقریر کے وقت خود اپوزیشن سے رابطہ کیا تھا۔ سندھ اسمبلی میں 4 دن تک بڑے اچھے ماحول میں کام ہوا لیکن 5 ویں دن اپوزیشن کی ایک جماعت نے شور شرابا کیا اور حکومت کو تقریر کرنے کا موقع نہیں دیا۔اپوزیشن نے ایک کٹ موشن نہیں ڈالا،ان کو شاید بجٹ پر کوئی اعتراض ہی نہیں تھا۔ مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ اپوزیشن کے نامناسب رویے پر اسپیکر نے ایکشن لیا اور اپوزیشن اراکین کی بدتمیزی سے ایوان کا ماحول خراب ہوا۔

احتساب سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے اندر جو احتساب کے ادارے آتے ہیں ان کے اثاثہ ہمارے پاس موجود بھی ہیں۔ چیرمین بلاول بھٹو نے بھی کل کہا ہے کہ  احتساب والوں کے اثاثوں کی چھان بین کی جائے اور جیکب آباد میں جو کچھ ہوا ہے اس پر نیب کی شکایات پر کاروائی کریں گے۔

ان سے حریم شاہ سے متعلق جب سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ حریم شاہ کا چرچہ سندھ اسمبلی میں نہیں بلکہ میڈیا میں ہی ہے۔

اپنے عہدے سے متعلق مراد علی شاہ نے کہا کہ 5 سال پورے کروں گا اور کسی کی خواہش پر گھرنہیں جاؤں گا۔ جب تک پارٹی چاہے گی تب تک وزیراعلی سندھ رہوں گا۔کسی کے کہنے سے نہ آیا ہوں اور نہ جاؤں گا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے یہ بھی کہا کہ نیب نے اپوزیشن اور حکومتی شخصیات کیلئے الگ الگ قوانین بنا رکھے ہیں۔ دوسروں کو گرفتار کرنے کیلئے 10 دن پہلے آگاہ کیا جاتا ہے لیکن اعجاز جاکھرانی کے گھر نیب اچانک چھاپہ مارتی ہے۔ چیئرمین نیب کوان معاملات کو دیکھنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں