جتنی جلدی ویکسینیشن ہوگی،پابندیاں ختم کرتے رہیں گے،اسد عمر

ریاست کو ماں کا کردار ادا کرنا چاہئے

اسد عمر نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کرونا وائرس سے نبٹنے کے لیے  ایک ماں کی طرح فیصلے کئے جو کہ دنیا کی سوچ کے خلاف تھے۔

جمعہ کو وفاقی وزیر اسد عمر نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس میں کرونا ایس او پیز سے متعلق  تقریب سے خطاب کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ریاست کو ماں کا کردار ادا کرنا چاہئے اور اس ہی لئے عمران خان نے کرونا کے حالات میں اسی ویژن کے تحت فیصلے کئے۔ بلاول بھٹو سمیت اپوزیشن نےلاک ڈاؤن پر زور دیا اور سب ہمیں کہہ رہے تھے کہ یہ تباہ و برباد کردیں گے۔

اسد عمر نے بتایا کہ گزشتہ سال عید پر مارکیٹ کھولی گئیں اور پھر اسپتال بھرگئے جبکہ 30 فیصد لوگوں کی آمدن متاثر ہوئی تھی۔ حکومت نے متوازن طریقے سے چلنے کی کوشش کی اور خطے کے مقابلے میں پاکستان کافی حد تک محفوظ رہا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم گوروں سے متاثر ہوتے ہیں کیونکہ غلامی سے نکلے ہیں۔ غلامی سے نکلنے کی بات کریں گے تو لوگ برا مان جائیں گے۔ حکومتی اقدامات پر گزشتہ سال مئی اور جون میں تنقید کی گئی کہ یہ ہمیں مار کر سب تباہ کردیں گے۔

ویکسینیشن :۔

اسد عمر نے بتایا کہ اگلے ہفتے سے بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہم چلائی جارہی ہے اور اگلے چند ہفتوں کیلئے ویکسین کا ٹارگٹ بھی مقرر کیا جائے گا۔ جتنی جلدی ویکسین لگانے کی تعداد اوپر لے جائیں گے اتنی جلدی پابندیاں ختم ہونگی۔

اسلام آباد سے متعلق اسد عمر نے بتایا کہ اچھی خبر ہے کہ اسلام آباد میں کرونا ویکسین کا بہترین کام چل رہا ہے اور شہر کی 21 فیصد آبادی ویکسین کرا چکی ہے تاہم ہمارے پاس صلاحیت اس سے بھی زیادہ ہے۔

معاشی صورتحال:۔

اسد عمر نے بتایا کہ کرونا سے نمٹنے کیلئے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ لاک ڈاؤن سے ریسٹورنٹس، میرج ہالز اور تعلیمی اداروں کا بہت نقصان ہوا ہے۔ ای سی سی میں کہا ہے کہ ایسے شعبوں کیلئے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جائے اور وزیر خزانہ نے میری اس تجویز پر اتفاق کرلیا ہے۔وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ وہ مارکیٹیں رات 10 یا 12 تک کھولنے کے مخالف ہیں اور چاہتے ہیں کہ بغیر کسی ایس او پی کے ساری مارکیٹس مکمل کھلنی چاہیں۔

اسد عمر نے امکان ظاہر کیا کہ اگلے سال 4.8 فیصد جی ڈی پی گروتھ ہوگی اورہوسکتا ہے کہ جی ڈی پی گروتھ اس سے بھی زیادہ ہو۔ معاشی شرح نمو اچانک نمودار نہیں ہوئی اور اس سال معاشی شرح نمو 3.94 فیصد رہے گی ۔ فروری 2019 میں کہا تھا کہ 2 سال بعد گروتھ آئے گی اور موجودہ حکومت کی مدت کے اختتام تک معاشی شرح نمو زیادہ ہوگی۔

اسد عمر نے بتایا کہ چاہتا ہوں کہ اگلی عید پرکوئی کاروباری بندشیں نہ ہوں تا کہ لوگ کھل کر کاروبار کرسکیں۔ ویکسین پر زیادہ توجہ دے کر کرونا سے نکل سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں