ججوں اوربیوروکریسی کے ٹیکس کا کسی کو معلوم نہیں ہوتا،شاہدخاقان

وزراء کو گھر بھیجیں، ایف بی آر کو بند کر دیں

پاکستان مسلم لیگ نون کے سینئررہنما شاہد خاقان عباسی نے ایوان میں حکومتی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی ہے۔

قومی اسمبلی میں بدھ کو خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت کا پٹرول پر ٹیکس لگا کر 600 ارب روپے جمع کرنے کا پروگرام ہے۔حکومت مہنگائی کرکے بھی ٹیکس جمع کررہی ہے۔ کابینہ میں ایسے لوگ ہیں جن کا کروڑوں کا گھر اور گاڑیاں ہیں اور اس ایوان میں بھی پیسے والے لوگ موجود ہیں لیکن اتنے امیر لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔ حکومت کو چاہئے کہ وزراء کو گھر بھیجیں، ایف بی آر کو بند کردیں۔

لیگی رہنما نے کہا کہ اس ملک میں صرف ارکان پارلیمنٹ کے ٹیکسوں کی ڈائریکٹری چھپتی ہے اور ججوں اور بیوروکریسی کے ٹیکس کا کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ ہر آدمی کے اخراجات کا حکومت کے پاس ریکارڈ موجود ہے۔سوال یہ ہے کہ ایوان کے ارکان سے پوچھا جائے کہ وہ ٹیکس دیتے ہیں یا نہیں۔جو رکن پارلیمنٹ ٹیکس نہیں دیتا وہ کیوں نہیں دیتا اور جو خود ٹیکس نہ دے وہ عوام پر ٹیکس کیسے لگا سکتا ہے۔

شاہد خاقان نے سوال اٹھایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کارروائی سے اگر چور کا لفظ حذف کریں تو آدھا ریکارڈ حذف ہوجائے گا۔ وفاقی وزراء کو چور کے لفظ کےعلاوہ آتا کیا ہے۔ کابینہ کے فیصلوں پر لیگی رہنما نے مزید کہا کہ وزیرخزانہ کہتے ہیں کہ ملک میں گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی۔ کل کابینہ نے گندم درآمد کرنے کی اجازت دے دی۔ کیا باہر کی گندم سے چپاتی اچھی بنتی ہے اور کیا باہر کی چینی زیادہ میٹھی ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ریکارڈ فصل ہوئی لیکن ہم گندم اور چینی باہر سے منگوا رہے ہیں۔ اس طرح کے انوکھےفیصلے یہی حکومت کرسکتی ہے۔وزراء کی تقاریرمیں غلط بیانی کرنا شامل ہے۔

شاہد خاقان نے یہ بھی کہا کہ معیشت پر وہ وزیر تقریر کرتا ہے جو اس وزارت سے نکالا گیا۔ بجلی پر وہ وزیر تقریر کرتے ہیں جنہیں اس وزارت سے نکال دیا گیا۔ وزیراعظم نےنا اہلی پران وزراء کو نکالا۔ جس کو جس وزارت سے نکالا گیا وہ اب اس ہی وزارت پرلیکچر دیتے ہیں۔

اپنےاوپرعائد الزامات پرانھوں نے کہا کہ مجھ پر بھی الزامات  اور مقدمات بھی بنائے گئے ہیں۔ عدالت میں ریکارڈ سمیت حاضر ہوں۔ نواز شریف دور میں سستی ایل این جی لے کرآئے۔ اس حکومت کے وزراء جھوٹ بولتے ہیں اور ان سے ایل این جی کے معاملے پر مناظرہ کے لیے تیار ہوں۔

متعلقہ خبریں