جج ارشد ملک ویڈیواسکینڈل کیس:ملزمان پرفردِجرم عائدکرنے کی تاریخ مقرر

انسدادِ سائبرکرائم کورٹ نے جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس میں ملزمان پر فردِ جرم عائد کرنے کیلئے تاریخ مقرر کردی ہے۔

انسداد سائبر کرائم کورٹ میں جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ کیس کی سماعت ایڈیشنل جج راجہ جواد عباس حسن نے کی۔ مرکزی ملزم میاں طارق سمیت نادر خان اور حمزہ عارف عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

شریک ملزم رضا خان کی جانب سے آج کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔ عدالت نے ملزم رضا خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی۔

ایف آئی آر میں نامزد ملزمان پر 24 جون کو فردِ جرم عائد کی جائے گی۔عدالت نے آئندہ سماعت پر تمام ملزمان کی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے۔

احتساب عدالت کے معزول جج ارشد ملک 4 دسمبر2020 کو انتقال کرگئے تھے۔ارشد ملک کرونا وائرس میں مبتلا تھے اور کئی ہفتوں سے اسپتال میں زیر علاج تھے۔اسپتال انتظامیہ کے مطابق ارشد ملک کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا اوران کی حالت تشویش ناک تھی۔

سابق جج ارشد ملک نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو العزیزیہ اسٹیل مل کے مقدمے میں 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے ان کی ایک مبینہ ویڈیو جاری کی تھی جس میں انھیں کہتے ہوئے سنا گیا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز کے مقدمے میں سزا دینے کے لیے ان پر دباؤ تھا۔

ارشد ملک کو ہٹانے کے فیصلے پر مریم نواز کا ردعمل

اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ارشد ملک کو ان کے مس کنڈکٹ کی وجہ سے احتساب عدالت کے جج کے طور پر کام کرنے سے روکتے ہوئے اُنھیں لاہور ہائی کورٹ رپورٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔ ارشد ملک ڈیپوٹیشن پر اسلام آباد میں تعینات ہوئے اور وہ لاہور ہائی کورٹ کے ہی ماتحت تھے۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو فوری طور پر ہٹانے کا فیصلہ

مذکورہ جج کی ویڈیو منظر عام آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اُنھیں واپس لاہور ہائی کورٹ بھیجنے کی بجائے وفاقی وزارت قانون میں بطور او ایس ڈی رکھ لیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد ارشد ملک نے ایک بیانِ حلفی دیا تھا جس میں انھوں نے نواز شریف کے بیٹے سے ملاقات کا اعتراف کیا تھا۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے پر فیصلے میں کہا تھا کہ ارشد ملک نے جو بیان حلفی جمع کروایا تھا وہ دراصل ان کا اعترافِ جرم تھا۔

متعلقہ خبریں