’جذبات کا اظہار بول کر کرنے سے لانگ ڈسٹنس ریلیشن شپ آسان ہو جاتا ہے‘

اس بات میں دو رائے نہیں کہ میاں بیوی کی زندگی ایک دوسرے کے گرد گھومتی ہے، دونوں ساتھ مل کر خاندان کی تکمیل کرتے ہیں، البتہ کبھی گھرانے کی ضروریات اور نوکری کی مجبوریوں کے باعث زندگی دوراہے کا شکار ہوجاتی ہے اور میاں بیوی کو الگ رہنا پڑتا۔
ایسے میں زندگی کا زاویہ اور انسانی برتاؤ یکسر بدل جاتا ہے۔ عام حالات میں بظاہر معمولی نظر آنے والی باتوں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
جب کسی مجبوری کے باعث رشتے میں منسلک دو لوگوں کو الگ رہنا پڑے۔ ایسے کہ کئی کئی ہفتوں مہینوں تک ملاقات کا امکان نہ ہو، تو اسے لانگ ڈسٹنس ریلیشنشپ کہا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں
پاکستانیوں کے لیے یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے، لگ بھگ ہر خاندان میں ہی ایسا ایک جوڑا ہوتا ہے جو الگ رہنے پر مجبور ہوتا ہے۔
پاکستان کے بیشتر شہری نوکری اور اعلیٰ تعلیم کی غرض سے خلیجی و یورپی ممالک کا رخ کرتے ہیں، اس کے علاؤہ فوج اور سرکاری ملازمین کی بڑی تعداد بھی نوکری کی وجہ سے گھروں سے کوسوں دور مقیم ہوتے ہیں۔
ان کے علاؤہ بھی کئی ضروریات اور مجبوریاں لوگوں کو الگ رہنے پر مجبور کرتی ہیں۔ ایسے میں آپسی تعلق کیسے خوشگواری سے استوار رکھا جاسکتا ہے یہ بسا اوقات ایک پیچیدہ معاملہ بن جاتا ہے۔
کراچی کی رہائشی یسریٰ سلیم کی شادی کو کچھ سال بیت چکے ہیں۔ اس دوران ان کے شوہر کو کئی بار ملک سے باہر کام کے لیے جانا پڑا، اور متعدد بار ملک کے دوسرے شہروں میں رہنا پڑا۔
یسریٰ کے بقول ان کا ہر بار شوہر کے ساتھ جا کر رہنا ممکن نہ تھا، خصوصاً بیرون ممالک میں۔ اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے یسریٰ کا کہنا تھا کہ جب شادی ہوئی تب انہیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ انہیں شوہر کے بغیر زندگی گزارنی پڑے گی۔ 
ان کا کہنا تھا کہ شادی شدہ زندگی کے شروع میں سب خاصا آسان تھا، عباس (انکے شوہر) اور وہ ساتھ تھے اور زندگی خاصی خوشگوار تھی لیکن پھر عباس کے جانے کی اطلاع ملی اور چیزیں اچانک یکسر مختلف ہوگئیں۔

یسریٰ کا کہنا تھا کہ جب ساتھ ہوتے ہیں تو کئی باتوں کی قدر نہیں ہوتی، سب معمول سا لگتا ہے (فوٹو: اردو نیوز)
 ’میرے لیے خاصا مشکل تھا ان کے بغیر رہنا۔ اکثر مواقع پر مجھے ان کی کمی محسوس ہوتی تھی۔‘
’پیار کی کمی تو چلو ہوتی ہی تھی مجھے تو لڑائی کی بھی کمی ہونے لگی، لہٰذا میں تو وقت نکال کر فون پر ہی لڑ لیتی تھی اگر کوئی بھی ایسی بات لگے مجھے۔‘  
یسریٰ کے خاوند عباس عالم کہتے ہیں کہ ان کے عجیب جذبات ہوتے ہیں جب ان کی اہلیہ ان سے لڑنے کے لیے بھی فون کا سہارا لیتی ہیں اور وہ اس طرح کے جذباتی ماحول میں ان کی کیفیت سمجھنے کے لیے ان کے پاس نہیں ہوتے۔ 
’گھر کی ضروریات اور نوکری کی پابندی گھر سے دور جانے پر مجبور کرتی ہے۔ اگر میرے بس میں ہو تو کبھی اپنی اہلیہ اور خاندان سے دور نہ جاوں۔‘
یسریٰ کا کہنا تھا کہ جب ساتھ ہوتے ہیں تو کئی باتوں کی قدر نہیں ہوتی، سب معمول سا لگتا ہے، البتہ جب شوہر دور ہو تو پھر ہر موقع پر اس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ 
مسز علی جن کے شوہر کام کی غرض سے اٹلی میں مقیم ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جب میاں بیوی ساتھ رہتے ہیں تو بہت سی باتیں بولنی نہیں پڑتیں۔بلکہ  اگلے بندے کو خود ہی اندازہ ہو جاتا ہے۔ تاہم جب دور ہوں تو پیار بھی بول کر جتانا پڑتا ہے اور ناراضگی کا اظہار بھی واضح طور پر بتا کر کرنا پڑتا ہے۔‘
’لانگ ڈسٹنس ریلیشنشپ کو خوش اسلوبی سے گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ جذبات کا اظہار بول کر کیا جائے۔ یہ طریقہ شروع میں مشکل لگتا ہے، لیکن ضروری ہے اور اس کے لیے علیحدہ سے وقت نکالنا پڑتا ہے۔‘

مسز علی کا کہنا ہے کہ اٹلی جا کر ان کے شوہر کے خیالات اب کچھ حد تک تبدیل ہو چکے ہیں (فوٹو: اردو نیوز)
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب ساتھ تھے تو جو باتیں عموماً بری لگتی تھیں، جن سے پریشانی ہوتی تھی، دور رہنے میں وہی باتیں یاد آتیں ہیں ’کہ ساتھ ہوتے تو اس موقع پر کیا کرتے۔‘ 
مسز علی کا کہنا ہے کہ اٹلی جا کر ان کے شوہر کے خیالات اب کچھ حد تک تبدیل ہو چکے ہیں۔   ’علی پہلے اپنے کیریئر اور فیوچر کے بارے میں سوچتے تھے، اور اسی لیے ہمارے بیچ یہ دوری بھی آئی لیکن اب ان کی اولین ترجیح اپنی فیملی کے ساتھ رہنا ہے۔‘  
محمد علی بھی اب اپنی اہلیہ کے ساتھ جلد دوبارہ زندگی کا سفر اکٹھا شروع کرنا چاہتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اٹلی میں وقت گزار کر مجھے اندازہ ہوا کہ دراصل اپنوں میں اور اپنے ملک میں رہنا ہی اصل عیاشی ہے۔ میری اب یہی دعا ہے کہ جلد از جلد اپنی فیملی کے ساتھ رہوں تا کہ فیملی لائف کو پھر سے انجوائے کر سکوں۔‘
تاہم الگ الگ زندگی بسر کرنے والے جوڑوں کا کہنا ہے کہ ان کے اردگرد موجود لوگوں کو ان کی مجبوریوں کا احساس نہیں ہو سکتا۔
’رشتہ داروں کو لگتا ہے کہ ہم اپنی خوشی سے الگ رہ رہے ہیں، انہیں کبھی مجبوری کا اور آپ پر جو بیت رہی ہے اس کا احساس نہیں ہوتا۔‘