جرمنی میں ’ماسکو کے لیے جاسوسی‘ کرنے پر روسی سائنسدان گرفتار

جرمنی میں پولیس حکام نے جرمن یونیورسٹی میں کام کرنے والے ایک روسی سائنسدان کو ماسکو کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پیر کو وفاقی پراسیکیوٹر نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ملزم جس کی شناخت صرف النر این نام سے کی گئی ہے، کو جمعے کو ’روس کی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کرنے‘ کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
پراسیکیوٹر کے مطابق النر این ایک جرمن یونیورسٹی جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کے نیچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے ڈیپارٹمنٹ میں بطور ریسرچ اسسٹنٹ ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔
آگسبرگ یونیورسٹی کی ترجمان نے میڈیا رپورٹس کی تصدیق کرتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ ملزم وہاں کام کر رہے تھے اور ان کی گرفتاری کے لیے ان کی ملازمت کی جگہ کی تلاشی لی گئی تاہم انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔
جرمنی کے تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ ملزم نے روس کی خفیہ ایجنسی کے اراکین سے اکتوبر 2020 اور رواں مہینے کے درمیان کم از کم تین بار ملاقات کی ہے۔
اس دوران ایک دو موقعوں پر انہوں نے مبینہ طور پر ’یونیورسٹی کی ڈومین سے معلومات‘ آگے پہنچائیں۔

ملزم کو سنیچر کو جج کے روبرو پیش کیا گیا جنہوں نے انہیں تحویل میں رکھنے کا حکم سنایا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ملزم کو سنیچر کو جج کے روبرو پیش کیا گیا جنہوں نے انہیں تحویل میں رکھنے کا حکم سنایا۔
جرمنی کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے اخبار بلڈ نے ملزم کی النر ناگیو کے نام سے شناخت کی ہے، ان کی پروفائل یونیورسٹی آف آگسبرگ کی ویب سائٹ پر نظر نہیں آ رہی تاہم لنکڈ ان پر ان کے نام سے ایک غیرتصدیق شدہ اکاؤنٹ میں لکھا ہے کہ وہ سنہ 2013 میں بطور ریسرچ انجینیئر روس کے بیکوو انسٹیٹیوٹ آف میٹل ارجی میں کر رہے تھے اور پھر سنہ 2016 میں آگسبرگ کے فران ہوفر انسٹیٹیوٹ میں انٹرن شپ کے لیے جرمنی چلے گئے۔
اس سے پہلے اٹلی نے بھی ماسکو پر جاسوسی کا الزام عائد کیا تھا جب پولیس نے نیوی کپتان کو روس کے سفارتخانے کے عہدیدار کو خفیہ دستاویزات دیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔
جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ جرمنی ستمبر ہونے والے عام انتخابات میں روس کی گمراہ کن معلومات کا نشانہ بن سکتا ہے جو ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ ہے۔