جرمنی: کرسچن ڈيموکريٹک پارٹی کے طویل اقتدار کا خاتمہ

جرمنی ميں 16 سال بعد کرسچن ڈيموکريٹک پارٹی کے اقتدار کا خاتمہ ہوگيا اور بائيں بازو کی جماعت سوشل ڈيموکريٹک پارٹی معمولی اکثريت سے فاتح بن گئی۔

سياسی اتحاد بھی حکمران پارٹی کو شکست سے نہ بچا سکا جرمنی ميں 16 برس بعد حکمراں پارٹی کا عہد تمام ہوا، بائيں بازو کی سوشل ڈيموکريٹک پارٹی نے ميدان مار ليا۔

کرسچن ڈیموکریٹک یونین اور سوشل کرسچن یونین کے اتحاد کے باوجود سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے تنہا 205 نشتيں جيت ليں اور ماضی کے مقابلے ميں 8 فيصد زائد ووٹ حاصل کيے۔

اينگلا مرکل کے ہٹتے ہی کرسچن ڈيموکريٹک پارٹی اليکشن ميں اپنی اکثريت کھو بيٹھی، اولف شلز کی جماعت نے انتہائی کم مارجن سے حکمراں جماعت کو شکست دی۔

سربراہ سوشل ڈيموکريٹک پارٹی اولف شلز کا کہنا ہے کہ لوگوں نے ايس ڈی پی کو ووٹ ديا ہے کيوں کہ وہ حکومت کی تبديلی چاہتے ہيں اور اس ليے بھی کہ وہ چاہتے ہيں کہ انہیں اگلا چانسلر بنايا جائے۔

مرکل کا سياسی اتحاد 195 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا جبکہ ان کی پارٹی کے ووٹوں ميں کمی کا تناسب بھی 8 فيصد رہا۔

گرین پارٹی بھی سو سے زائد سیٹوں کےساتھ تیسری بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔

تازہ ترین

پاکستان میں 40فیصد تعلیم یافتہ خواتین بیروزگار ہیں، رپورٹ
جرمنی: کرسچن ڈيموکريٹک پارٹی کے طویل اقتدار کا خاتمہ
وزیرخزانہ کا آئی ایم ایف پروگرام جاری رکھنے کاعزم
شہبازشریف،سلیمان شہباز کی بریت کی خبر غلط ہے، شہزاداکبر