جسٹس محسن کیانی کی جنرل (ر) اسد درانی کا مقدمہ سننے سے معذرت

اسد درانی نے انڈین را کے سابق سربراہ کے ساتھ مشترکہ کتاب لکھی تھی۔ فوٹو: عرب نیوز

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل اسد درانی کی ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست سننے سے معذرت کرتے ہوئے مقدمہ چیف جسٹس اطہر من اللہ کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 
جمعے کو سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس محسن کیانی نے وکلا کو آگاہ کیا کہ وہ اس مقدمے کی مزید سماعت سے معذرت چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیں
انہوں نے کہا کہ ‘کیس کا سارا بیگ گراؤنڈ جانتا ہوں اور فیصلہ لکھنے کے مرحلے میں تھا لیکن یہ افسوسناک ہے کہ میں اس کیس کی مزید سماعت نہیں کر سکتا۔’ 
جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کے دوران عدالت میں موجود وکلا اور فریقین کو آگاہ کیا کہ ‘کچھ ایسی وجوہات ہیں جو بتائی نہیں جا سکتیں، میں یہ کیس چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھیج رہا ہوں، وہ نیا بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کریں گے۔’ 
جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کی تھی جبکہ وزارت دفاع نے مخالفت کرتے ہوئے سابق ڈی جی آئی ایس آئی پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔
خیال رہے کہ پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے انڈیا کے خفیہ ادارے ریسرچ اینڈ اینالسز ونگ (را) کے سابق سربراہ کے ساتھ ایک مشترکہ کتاب لکھی تھی جس کو دونوں ملکوں میں پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔