جعلی پے آرڈر کی بڑھتی شکایات، فراڈ سے کیسے بچا جائے؟

فراڈ کے زیادہ تر کیسز میں جعلی پے آرڈر، بینک ڈرافٹس یا چیک استعمال کیے جاتے ہیں(فائل فوٹو:اِن سپلیش)

اسلام آباد کے رہائشی ڈاکٹر عمران اللہ خان ایک مقامی یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں انہوں نے ایک آن لائن ویب سائیٹ پر اپنی نئی ان رجسٹرڈ گاڑی ہونڈا سٹی ایسپائر کی فروخت کا اشتہار دیا اور ڈیل طے ہونے پر ایک پارٹی کو 45 لاکھ 80 ہزار میں ’فروخت‘ کر دی۔
خریدار نے ڈاکٹر عمران کے گھر آ کر گاڑی کی فروخت کا معاہدہ طے کیا۔ اشٹام پیپرز پر فریقین کے دستخط ہوئے. انہیں مقامی بینک کا پے آرڈر دیا اور گاڑی لے کر روانہ ہو گئے۔
ڈاکٹر عمران اگلے دن پے آرڈر لے کر بینک پہنچے تو ان کے پیروں تلے زمین نکل گئی جب انہیں معلوم ہوا کہ پے آرڈر جعلی تھا اور ان کے ساتھ فراڈ ہو گیا۔
مزید پڑھیں
اب وہ اپنی درخواست لے کر پولیس سٹیشنز میں جا رہے ہیں تاکہ ان کی جمع پونجی واپس مل سکے مگر اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ ’ملزم نے شہری سے آن لائن اشتہار کے ذریعے رابطہ کیا۔اور ایک جعلی بینک ڈرافٹ کے ذریعے مدعی کے گھر آ کر معاملہ کرکے گاڑی خریدی اور مدعی نے خود گاڑی ملزم کے حوالے کی۔ بعد ازاں ملزم غائب ہوگیا, پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے اور ملزم کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔‘
ڈاکٹر عمران اس فراڈ کے شکار اکیلے فرد نہیں بلکہ اسلام آباد کے سہیل اختر کے ساتھ گزشتہ سال اپریل میں بالکل ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا۔
انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ایک آن لائن ویب سائٹ پر جب انہوں نے اپنی ان رجسٹرڈ گاڑی ہونڈا ویزل کا اشتہار دیا تو اگلے دن ان سے فون پر رابطے کے بعد ایک ادھیڑ عمر شخص حاجی احسان کے نام سے ملا جو خود کو این ڈی یو سے منسلک پروفیسر بتاتا تھا۔
اس شخص نے اپنے ساتھ ایک اور شخص بھی لایا اور اس کا تعارف بطور کلرک کروایا۔ سہیل اختر کے مطابق وہ شخص حلیے سے کسی کھاتے پیتے گھر کا لگتا تھا اور بہت اچھا پرفیوم بھی لگا رکھا تھا اور ٹیوٹا کرولا گاڑی میں آیا اور گاڑی دیکھ کر چلا گیا۔

زیادہ تر گاڑیوں کی فروخت میں جعلی پے آڈر کا فراڈ ہوتا ہے۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
اس نے سہیل کو بتایا کہ دن کو یونیورسٹی میں فون باہر رکھنا پڑتا ہے اس لیے بند ہو گا شام کو آپ سے ملاقات ہو گی۔ اگلے دن وہ پھر شام کو ملنے آیا مگر کہا کہ ڈی ایچ اے اسلام آباد میں اس کا پلاٹ بکا ہے مگر اس کا پے آرڈر بینک میں جمع ہونے میں ایک دو دن لگ جائیں گے۔
’وہ گاڑی پسند کرکے چلا گیا مگر بیعانہ دینے کے مطالبے پر ان کا کہنا تھا کہ انہیں ٹیکس معاملات کی وجہ سے یکشمت ادائیگی ہی کرنا ہے۔‘
دو تین دن بعد پھر شام کو ساڑھے چار بجے کے بعد وہ گاڑی خریدنے آیا اور اپنے ساتھ راجہ نامی ایک اور شخص بھی لایا جو بعد میں پتا چلا کہ ماسٹر مائنڈ تھا۔
بلیو ایریا میں تمام لوگ اشٹام فروش کے پاس گئے جہاں شام چھ بجے کے قریب معاملات ختم ہوئے اور اسے 47 لاکھ کا پے آرڈر دیا۔
سہیل کے مطابق اس کو تھوڑا تامل ہوا کہ پے آرڈر کیش ہونے تک اپنے کاغذات انہیں نہ دے مگر ملزمان نے اسے مطمئن کیا کہ پے آرڈر تو کیش ہی ہوتا ہے۔ آپ کو پریشانی کس بات کی ہے۔
مگر انہوں نے یقینی بنایا کہ سودا اس وقت ہو جب بینک بند ہو چکے ہوں۔ اگلے دن سہیل بینک پہنچے تو انہیں پتا چلا کہ ان کے ساتھ فراڈ ہو گیا ہے۔ ملزمان اتنے ماہر تھے کہ انہوں نے سلک بینک کا کچھ ماہ پرانا اصلی پے آرڈر نمبر استعمال کیا تھا اور پے آرڈر کا ڈیزائن بھی ہوبہو اصلی جیسا تھا۔
بعد میں سہیل نے نادرا کے ذریعے پتا کروایا تو ان کے تمام شناختی کارڈرز جعلی نکلے۔ پولیس نے 48 گھنٹے تک ایف آئی آر درج نہ کی جبکہ سہیل کے بینک نے پورا عمل مکمل ہونے تک فراڈ کی رپورٹ دینے سے معذرت کر دی۔ یوں سہیل کا قیمتی وقت ہاتھ سے نکل گیا۔
سہیل نے حساس اداروں کی مدد سے باآلاخر ملزمان کو گرفتار کروا دیا تو معلوم ہوا کہ ان کا راجہ نامی ماسٹر مائینڈ اسلام آباد اور راولپنڈی کا کئی مقدمات میں اشتہاری ہے اور اس کے گینک میں راجہ نامی ایک بااثر وکیل بھی شامل تھا۔

اسلام آباد میں اس طرح کے گینگز نے درجن بھر سے زائد لوگوں کو جعلی پے آرڈر کے ذریعے لوٹا ہے۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے سہیل اختر کا کہنا تھا کہ اب وہ سوچتے ہیں کہ دیگر صارفین کو نصیحت کریں گے کہ کبھی کسی پے آرڈر پر یقین نہ کریں جب تک کہ بینک میں آپ کے سامنے بنوا کر دیا جائے۔ دوسرا جب تک پے آرڈر کیش نہ ہو جائے کاغذات وغیرہ انہیں نہ دئیے جائیں۔
سہیل نے بتایا کہ ان کے کیس کے دوران معلوم ہوا کہ اسلام آباد میں اس طرح کے گینگز نے درجن بھر سے زائد لوگوں کو جعلی پے آرڈر کے ذریعے لوٹا ہے۔
زیادہ تر گاڑیوں کی فروخت میں یہ فراڈ ہوتا ہے کیونکہ زمین کی فروخت میں فراڈ کی صورت میں مجرم کو پکڑنا آسان ہو جاتا ہے۔

صارفین اس فراڈ سے بچنے کے لیے کیا کریں؟

پے آرڈرز اور بینک انسڑومنٹس کے ذریعے زیادہ تر فراڈ شام کے وقت یا چھٹی کے دن ہوتے ہیں تاکہ بینک سے فوری چیک نہ کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ ماہرین کے مطابق ایک عام آدمی کے لیے بینک سے فون پر کسی پے آرڈر وغیرہ کا چیک کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ کسٹمر پرائیویسی کے زمرے میں آتا ہے اور بینکس عموماً اپنے اکاؤنٹ ہولڈرز کی معلومات دوسروں سے شئیر نہیں کرتے۔
اس حوالے سے اردو نیوز کے رابطہ کرنے پر تجربہ کار بینکر راشد مسعود عالم نے بتایا کہ اس طرح کے فراڈ کا پتا لگانا عام آدمی کے لیے بہت مشکل ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سب سے پیچیدہ سکیورٹی کا نظام کرنسی کا ہوتا ہے جس میں کئی سطح کے فیچرز شامل کیے جاتے ہیں اور عام صارفین کا واسطہ روزانہ کرنسی نوٹس سے پڑتا ہے مگر اس کے باوجود دنیا بھر میں جعلی کرنسی پھر بھی چلتی ہے تو پھر ایسے میں کسی اور بینک انسٹرومنٹ جیسے کہ چیکس، پے آرڈر اور بینک ڈرافٹس کو جانچنا ایک عام آدمی کے لیے انتہائی مشکل کام ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی دستاویزات کی تصدیق جب تک جاری کرنے والے بینکوں سے نہ کی جائے، ان کی کوئی حثییت نہیں ہوتی۔ چونکہ بینک خود کسی شخص سے اپنے صارف کا ڈیٹا شئیر نہیں کرتے۔ اس لیے یہ ممکن نہیں کہ عام آدمی کو فون پر کسی چیک یا پے آرڈر کی تصدیق ہو سکے۔
اس کا ایک طریقہ یہ رہ جاتا ہے کہ جو شخص پے آرڈر دے رہا ہے وہ خود بینک سے تصدیق کروا کر دے یا پھر خریدار خود ساتھ بینک جائے اور تصدیق کرلے۔

عابد قمر کا کہنا ہے کہ سٹیٹ بینک پاکستان میں کام کرنے والے تمام بینکوں کو بہرحال گائیڈ لائنز جاری کرتا رہتا ہے۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
دوسرا حل یہ ہے کہ پے آرڈر وغیرہ کیش ہونے تک خریدار کو گاڑی وغیرہ کے کاغذات نہ دیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے فراڈز کراچی میں کم ہیں مگر اسلام آباد اور پنجاب سے شکایات زیادہ ہیں۔

سٹیٹ بینک کا موقف

اردو نیوز کے رابطہ کرنے پر سٹیٹ بینک کے ترجمان عابد قمر کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے اس طرح کی شکایات آ رہی ہیں تاہم اس حوالے سب سٹیٹ بینک کا کردار تب آتا ہے اگر بینک اس میں ملوث نکلیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ فراڈ کے زیادہ تر کیسز میں جعلی پے آرڈر، بینک ڈرافٹس یا چیک استعمال کیے جاتے ہیں، اس لیے اس میں سٹیٹ بینک کے ایکشن کے بجائے پولیس کیس بنتا ہے۔
عابد قمر کا کہنا تھا سٹیٹ بینک پاکستان میں کام کرنے والے تمام بینکوں کو بہرحال گائیڈ لائنز جاری کرتا رہتا ہے تاکہ صارفین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں۔