جوہر ٹاؤن دھماکہ: نیٹ ورک پکڑا گیا، گرفتار ہونے والوں میں خواتین بھی شامل

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ جوہر ٹاؤن میں دھماکہ کرنے والے نیٹ ورک کے 10 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دھماکے میں دشمن ملک کی ایجنسی ملوث ہے۔
پیر کو لاہور میں آئی جی پنجاب انعام غنی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عثمان بزدار کا مزید کہنا تھا کہ ’دھماکے کی اطلاع ملتے ہی آئی جی پنجاب کو موقع پر  پہنچنے کی ہدایت کی تھی۔‘
بقول ان کے ’سی ٹی ڈی اور پولیس نے بہترین کاکردگی کا مظاہرہ کیا جس پر ان کو شاباش پیش کرتا ہوں۔‘
عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ’23 جون کو ہونے والے دھماکے میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔‘
مزید پڑھیں
عثمان بزدار نے بتایا کہ ’چند گھنٹوں میں ہی اہم شواہد حاصل کیے گئے اور یہ پنجاب حکومت کی بڑی کامیابی ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ملک کے کئی شہروں سے ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘
وزیراعلیٰ پنجاب نے دیگر کیسز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’تمام ہائی پروفائل کیسز کو ٹریس کر لیا گیا ہے۔‘
اس موقع پر آئی جی پنجاب انعام غنی کا کہنا تھا کہ ’دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی سے جڑے تمام کرداروں کو پکڑا گیا ہے۔‘
ان کے مطابق ’گاڑی خریدنے والے، لاہور لانے والے، اس کی مرمت کرنے والے اور اس میں بارودی مواد نصب کرنے والوں سمیت دوسرے ملزم شامل ہیں۔‘

وزیر اعلیٰ کے مطابق 23 جون کو ہونے والے دھماکے میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
انعام غنی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’دہشت گردوں کا ہدف پولیس چوکی تھی۔‘
آئی جی کا کہنا تھا کہ ’گرفتار کیے جانے والے افراد میں خواتین بھی شامل ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ماسٹر مائنڈ کی پہچان ہو چکی ہے، جبکہ مزید تفتیش کے لیے جے آئی ٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ گاڑی 2010 میں چھینی گئی تھی اور اس کے بعد سپرد داری پر تھی۔
انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے لاہور میں داخل ہوتے وقت اس کو چیک کیا گیا۔
جس کے پاس گاڑی تھی اس کے پاس سپرداری کے کاغذات بھی موجود تھے۔