جو بائیڈن افغان صدراشرف غنی، عبداللہ عبداللہ سے ملیں گے:وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اپنے افغان ہم منصب اشرف اور افغانستان کی اعلیٰ مفاہمتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ کے ساتھ 25 جون کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ بیان اتوار کو جاری کیا گیا۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب طالبان کے افغان سکیورٹی فورسز کے خلاف مہم میں شدت آئی ہے اور جو بائیڈن ستمبر تک افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کا اعلان کر چکے ہیں۔
مزید پڑھیں
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ’صدر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دیرپا شراکت پر غور کرے گا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ واشنگٹن افغان عوام کی سفارتی، معاشی اور فلاحی مدد کرتا رہے گا۔
’امریکہ افغان حکومت کے ساتھ رابطے میں رہے گا تاکہ افغانستان دوبارہ دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بن سکے جو امریکہ کے لیے خطرہ ہیں۔‘
تاہم امریکہ کی جانب سے فوج کا انخلا شروع ہونے اور اڈے خالی کرکے افغان حکومت کے سپرد کرنے کے بعد طالبان ملک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی مہم شروع کیے ہوئے ہیں۔
امریکہ کی طرف سے انخلا کے اعلان کے بعد سے اب تک طالبان کم از کم 30 اضلاع پر قبضہ کر چکے ہیں۔
دوسری جانب اتوار کو افغان طالبان کا کہنا تھا کہ وہ امن مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور افغانستان میں ’حقیقی اسلامی نظام‘ لانا چاہتے ہیں جس میں علاقائی روایات اور مذہب کے مطابق خواتین کو حقوق دیے جائیں گے۔

امریکہ کی طرف سے انخلا کے اعلان کے بعد طالبان کم از کم 30 اضلاع پر قبضہ کر چکے ہیں (فوٹو روئٹرز)
 ملا غنی برادر نے کہا کہ ’دنیا اور افغانوں کے غیرملکی افواج کے بعد نظام حکومت کے بارے میں سوالات ہیں، اور یہ مسائل دوحہ میں مذاکرات کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔‘
’ایک حقیقی اسلامی نظام افغانوں کے تمام مسائل کا سب سے بہتر حل ہے۔ ہمارا مذاکرات میں شرکت کرنا اور اس کی حمایت کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم باہمی بات چیت سے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’خواتین اور اقلیت کا تحفظ کیا جائے گا، اور سفارت کاروں اور این جی اوز بھی محفوظ طریقے سے کام کر سکیں گے۔‘