جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کے بعد تحریکِ انصاف کہاں کھڑی ہے؟

پاکستان کی حکمران جماعت تحریک انصاف کے اندر سیاسی جنگ نے زور پکڑ لیا ہے۔ پارٹی میں جہانگیر ترین گروپ کے باضابطہ طور پر اعلان سے قومی اور پنجاب اسمبلی میں طاقت کا توازن بدل گیا ہے۔
پنجاب اسمبلی جہاں تحریک انصاف کی سادہ اکثریت نہیں ہے اور وہ اپنے اتحادیوں کے سہارے کھڑی ہے۔ یہاں ہم اس کی عددی حیثیت کا جائزہ لیتے ہیں۔
آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی اسمبلی کی کل نشستیں 371 ہیں اور حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعت کو 186 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ 
مزید پڑھیں
  • جہانگیر ترین کا ’مذاکراتی کمیٹی‘ سے ملاقات سے انکار

    Node ID: 558981

  • تحریکِ انصاف میں باضابطہ طور پر جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کا اعلان

    Node ID: 566621

  • عمران خان انصاف پسند آدمی ہیں انصاف کریں گے: جہانگیر ترین

    Node ID: 566691

جولائی 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف نے نے پنجاب سے 181 نشستیں حاصل کیں اور مسلم لیگ ق، چار آزاد اراکین اور پاکستان راہ حق پارٹی کے ایک ممبر کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنائی۔
پنجاب اسمبلی کی ویب سائٹ کے مطابق اس وقت حکومتی اتحاد کی کل 196 نشستیں ہیں۔ 
دوسری طرف انہی انتخابات میں مسلم لیگ ن نے 166 سیٹیں حاصل کیں اور پیپلزپارٹی کے ساتھ۔ ملا کر اپوزیشن کی کل 173 نشستیں ہیں۔ 
اب صورت حال دلچسپ ہو چکی ہے کیونکہ ترین گروپ کے علیحدہ ہونے سے تحریک انصاف کی اسمبلی میں طاقت بھی تقسیم ہوگی۔ ترین گروپ کا دعویٰ ہے کہ ان کے ہم خیال ممبران کی تعداد 24 ہے۔ ان 24 اراکین کے پارلیمانی لیڈر کے طور پر سعید اکبر نوانی سپیکر کو اپنی درخواست جمع کرائیں گے۔ 

ترین گروپ کا دعویٰ ہے کہ اس کے ہم خیال ممبران کی تعداد 24 ہے (فوٹو: اردو نیوز)
اس حوالے سے ہم خیال گروپ کے رہنما راجا ریاض نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ابھی اور بھی اراکین گروپ میں شامل ہوں گے۔ ہمارے ساتھ دو اور گروپ بھی رابطے میں ہیں۔ ایک چار ممبران کا گروپ ہے اور ایک 15 ممبران کا گروپ ہے، تو ہماری تو یہ تعداد اب اور بھی بڑھے گی۔
ان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ تحریک انصاف کی ایوان میں طاقت تقسیم کرنے کے علاوہ یہ گروپ اور کیا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ’دیکھیں یہ سیاست ہے اس میں کچھ بھی حتمی نہیں ہے۔ ابھی تو یہ شروعات ہے۔

پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے ارکان کی تعداد 166 جبکہ پیپلز پارٹی کے صرف 7 ممبران ہیں (فوٹو: اردو نیوز)
’اب جیسا ہمارے ساتھ برتاؤ کیا جائے گا اسی طرح کی حکمت عملی ہمارا گروپ اختیار کرے گا۔ اگر ہمارے اراکین کے خلاف انتقامی کارروائیاں ختم نہ کی گئیں تو گروپ کی اگلی میٹنگ میں صورت حال اور بھی واضح ہو گی۔‘
پنجاب میں بزدار حکومت 10 ووٹوں پر کھڑی ہے۔ ان 24 ممبران کے اپنا گروپ بنانے سے حکومت کے وفادار اراکین کی تعداد 172 ہو چکی ہے جبکہ اپوزیشن 173 پر پر کھڑی ہے۔
اس حالیہ پیش رفت کے بعد وزیراعلٰی پنجاب عثمان بزدار نے اراکین اسمبلی سے ملاقاتوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے اور مختلف حلقوں میں ترقیاتی کاموں کا بھی اعلان کیا ہے۔

جولائی 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف نے نے پنجاب سے 181 نشستیں حاصل کیں (فوٹو: اردو نیوز)
حکومتی اراکین اسمبلی سے ملاقاتوں کے بعد جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ’طاقتور مافیا تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف پہلے دن سے سازشوں کے جال بن رہا ہے۔ بدقستمی سے مافیا کی جڑیں ہر شعبے میں پھیلی ہوئی ہیں۔‘
انہوں نے اپنے بیان میں اپوزیشن پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’بدقسمتی سے اپوزیشن کا ٹولہ بھی اس مافیا کی سرپرستی کر رہا ہے۔‘

پنجاب اسمبلی کی کل نشستیں 371 ہیں جبکہ حکومت بنانے کے لیے 186 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے (فوٹو: اردو نیوز)
تاہم انہوں نے یہ واضع نہیں کیا کہ اس مافیا سے ہم خیال گروپ ہی ان کی مراد ہے یا وہ کسی خفیہ گروہ کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں، لیکن اس صورت حال سے ایک بات واضح ہو چکی ہے کہ ترین گروپ کے سامنے آنے کے بعد پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کی حکومت مکمل طورپر اس گروپ پر انحصار کرے گی۔ چاہے کوئی قانون پاس کروانا ہو یا جولائی میں آنے والا بجٹ ہو۔ 

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کی نشستوں کی کل تعداد 173 بنتی ہے (فوٹو: اردو نیوز)
ترین گروپ میں شامل پنجاب کے اراکین اسمبلی میں دو صوبائی وزرا، وزیراعلیٰ کے دو مشیر، دو سپیشل اسسٹنٹ اور پانچ پارلیمانی سیکرٹری ہیں۔ وزرا میں نعمان لنگڑیال اور اجمل چیمہ جبکہ فیصل حیات اور عبدالحئی دستی مشیر برائے وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدوں پر فائز ہیں۔