جہلم: قلعہ نندانہ کو محفوظ کرنے کا منصوبہ، قلعے کی تاریخی اہمیت کیا ہے؟

وزیراعظم نے ثقافتی ورثے کومحفوظ کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ فوٹو ٹوئٹر پی ایم آفس

وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو ضلع جہلم کے تاریخی قلعہ نندانہ کے مقام پر ’البیرونی ریڈیئس‘ کے نام سے سیاحتی منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس منصوبے کا مقصد سیاحت کے فروغ کے علاوہ تاریخی مقامات اور ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنا ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے آئندہ نسلوں کے لیے ثقافتی ورثے کومحفوظ کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کوئی قوم ماضی کا جائزہ لیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی۔  

قلعہ نندانہ کی تاریخی اہمیت کیا ہے؟ 

وفاقی محکمہ آثار قدیمہ کے اسسٹنٹ ڈائیریکٹر محمود الحسن نے قلعہ نندانہ کی تاریخی حیثیت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ مسلم سائنسدان ریاضی، فلکیات اور جغرافیائی ماہر ابو ریحان محمد ابن البیرونی نے قلعہ نندانہ میں کئی سال گزارنے کے بعد پہلی بار زمین کا قطر معلوم کیا تھا۔ 
مزید پڑھیں
’البیرونی نے گیارہویں صدی عیسوی میں قلعہ نندانہ میں ہی زمین کے قطر کی پیمائش کی جو آج کے سائنٹیفک دور میں بھی درست ثابت ہوئی۔‘  
انہوں نے کہا کہ قلعہ نندانہ دسویں صدی قبل مسیح کا تعمیر شدہ ہے اور اسی قلعے میں کئی سال گزارنے کے بعد انہوں نے ہندوستان کی تہذیب و تمدن اور جغرافیائی حیثیت کے حوالے سے تاریخی کتاب ’تاریخ الہند‘ تحریر کی تھی۔
’یہ اس دور کا جدید علمی مرکز بھی تصور کیا جاتا تھا۔‘  
محمود الحسن کے مطابق پوٹھوہار ریجن میں ہندو ازم، بدھ ازم اور قبل مسیح ادوار کے آثار بھی پائے جاتے ہیں۔  
محکمہ آثار قدیمہ خیبر پختونخوا کے ڈائرکٹر ڈاکٹر عبد الصمد قلعہ نندانہ کی تاریخی اہمیت کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ تاریخی قلعہ ہندو شاہی دور میں تعمیر کیا گیا تھا جو کہ ساتویں عیسوی سے لے کر 11ویں عیسوی صدی تک یہاں پر حکومت کرتے رہے۔
’ہندو شاہی کا دارالخلافہ صوابی تھا جبکہ پوٹھوہار، میانوالی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے پہاڑی علاقوں پر انہوں نے قلعے اور مندر تعمیر کیے ہوئے تھے جن کے آثار آج بھی موجود ہیں۔ قلعہ نندانہ کے علاوہ اس علاقے میں کٹاس راج اور ٹیلا جوگیاں اور دیگر مندر موجود ہیں۔‘ 
انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں ہندو شاہی کے علاوہ منگول، ترک اور افغانوں کی حکومت رہی ہے جبکہ 11 ویں صدی میں محمود غزنونی نے اس علاقے پر حکومت قائم کی۔    
پنجاب یونورسٹی کے شعبہ تاریخ کے پروفیسر چوہدری مختار نے حکومت کی جانب سے ’البیرونی ریڈیئس‘ کے افتتاح کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آثار قدیمہ کو محفوظ بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
’ حکومت کے اس اقدام سے نوجوانوں کو اپنی تاریخ اور ثقافت سے روشناس ہونے میں مدد ملے گی۔‘  
انہوں نے آثار قدیمہ اور تاریخی مقامات پر مزید توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔