’جی سیون چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے‘

بیجنگ پر شن جیانگ اور ہانگ کانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کے بعد چین نے پیر کو جی سیون پر ’اندرونی معاملات میں مداخلت‘ کا الزام عائد کیا ہے۔
مزید پڑھیں
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق لندن میں منعقد ہونے والے تین روزہ سمٹ میں جی سیون کے رہنماؤں نے شن جیانگ خطے میں اقلیتوں اور ہانگ کانگ میں جمہوریت کے حامی کارکنوں کے ساتھ بدسلوکی پر چین کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے بیجنگ کو ’انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی قواعد پر مزید ذمہ داری کے ساتھ عمل پیرا‘ ہونے کا کہا تھا۔
برطانیہ میں چینی سفارتخانے نے پیر کو اپنے ردعمل میں غصے کا اظہار کرتے ہوئے جی سیون پر ’مداخلت‘ کا الزام لگایا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ گروپ سیون سیاست پر اثرانداز ہونے اور چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے لیے شن جیانگ سے متعلقہ معاملات کا فائدہ اٹھا رہا ہے جس کی ہم مخالفت کرتے ہیں۔‘
بیان میں جی سیون پر ’جھوٹ، افواہوں اور بے بنیاد الزامات‘ لگانے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

جی سیون رہنماؤں نے سنیچر کو ترقی پذیر ممالک میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کے حوالے سے سرمایہ کاری کے نئے منصوبے پر اتفاق کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
انسانی حقوق کے گروپس کا کہنا ہے کہ شن جیانگ میں بسنے والی دس لاکھ اویغور اور دیگر اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد حراستی کیمپوں میں قید ہیں۔
جی سیون کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’ہم چین سے انسانی حقوق اور بنیادی آزادی کے حقوق کی پاسداری سمیت اپنی اقدار کو فروغ دیں گے۔‘
دو سال میں اپنے پہلے سمٹ میں سات ممالک کے سربراہان نے کورونا وائرس ویکسینیشن، موسمیاتی تبدیلیوں، حقوق اور تجارت سے متعلق اقدامات اٹھانے کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کورونا وائرس کی ابتدا کے حوالے سے چین میں نئے سرے سے تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے بیجنگ کو ’انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی قواعد پر مزید ذمہ داری کے ساتھ عمل پیرا‘ ہونے کا کہا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
چین کے سفارتخانے کا کہنا ہے کہ ’حالیہ وبا پوری دنیا کے لیے مہلک ہے اور دنیا بھر کے سائنسدانوں کو اس کا سراغ لگانے کے لیے کام کرنا چاہیے اور اس پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔‘
جی سیون رہنماؤں نے سنیچر کو ترقی پذیر ممالک میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کے حوالے سے سرمایہ کاری کے نئے منصوبے پر اتفاق کیا ہے جس کے بارے میں صدر بائیڈن کا کہنا ہے کہ یہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے زیادہ بہتر ہوگا۔