جی ڈی پی 7فیصد تک لیجانے کاہدف ہے، شوکت ترین

وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے جی ڈی پی گروتھ اس سال 5 فیصد سے زیادہ رہے گا، اگلے سال 6 فیصد جبکہ 2023ء تک گروتھ کو 7 فیصد پر لے جانے کا ہدف ہے۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ہماری پہلی ترجیح جی ڈی پی گروتھ ہے جب گروتھ ہوگی تو ملک کا پہیہ چلے گا۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ 20 سال پہلے ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ ہم فوڈ امپورٹر بن جائیں گے لیکن آج ہم اشیائے خور و نوش بھی باہر سے منگوا رہے ہیں، اس کی وجہ سے عالمی قیمتوں کا بھی ہم پر اثر پڑتا ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہماری دوسری ترجیح ایکپسورٹ بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں نے 29 ارب ڈالر ملک بھیجے ورنہ ہم اس وقت سنگین صورتحال سے دوچار ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے منصوبہ بندی کررہے ہیں اور نئے سیکٹر پر بھی کام کررہے ہیں۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ آئی ٹی سیکٹر کو انڈسٹری کا درجہ دینے جارہے ہیں، آئی ٹی برآمدات اس سال 40 ملین تک پہچنے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس کلیکشن کی موجودہ حکمت عملی کافی نہیں ہے، ہمیں مزید لوگوں کو ٹیکس نیٹ کے اندر لانا ہے جبکہ سیلز ٹیکس کلیکشن کو جدید بنانے کی ضرورت ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے پاس 72  لاکھ لوگوں کا ڈیٹا ہے جن پر ٹیکس لاگو ہوتا ہے جبکہ مجموعی طور پر 2 کروڑ سے زیادہ لوگ ہیں لیکن ٹیکس دینے والوں کی تعداد صرف 30 لاکھ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے بازاروں میں 10 ٹریلین روپے کی سیل ہوتی ہے مگر تاجر صرف 500 ارب سیل کا ٹیکس دے رہے ہیں۔

آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارہ خود نہیں آتا ہم اپنی ضروریات کیلئے ان کے پاس جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے دہشت گردی کیخلاف جنگ کے باعث دنیا ہمارے ساتھ تھی اس لئے ہم نے آئی ایم ایف سے اپنی شرائط پر معاہدے کئے مگر اس وقت وہ صورتحال نہیں ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بجلی اور گیس پر ٹیرف بڑھانے سے غربت میں اضافہ ہوا تاہم وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ مزید ٹیرف نہیں بڑھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے اہداف ہم حاصل کریں گے مگر اپنے طریقے سے، ہم ان شرائط پر مزید نہیں چلیں گے۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ اس سال چھوٹے قرضوں کی صورت میں 750 ارب روپے چھوٹے کاروبار کیلئے دیں گے، جن پر شرح سود صفر ہوگا اور اس کیلئے فلاحی اداروں کی خدمات حاصل کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے حوالے سے شکایات درست ہیں لیکن اس وقت ہماری جیب بھری نہیں ہے اور چاہتے ہیں کہ پرفارمنس کی بنیاد پر ملازمین کو مراعات دی جائیں۔

متعلقہ خبریں