حادثات پر استعفے مسائل کا حل نہیں،فرخ حبیب

وزیرمملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ پیر کا ٹرین حادثہ انتہائی افسوس ناک ہے مگر ہمیں مسائل کے حل پر بات کرنی چاہیے کیوں کہ استعفے ان کا حل نہیں۔

سماء کے پروگرام آواز میں گفتگو کرتے ہوئے فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ وزیر ریلوے اعظم سواتی خود جائے حادثہ پر پہنچے تھے اور واقعہ کی تحقیقات جاری ہے۔

فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ ذمہ داری کا تعین ہونا چاہیے تاہم استعفے وہاں آنے چاہیں جہاں سسٹم منصوبہ بندی کے تحت ہو۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں ٹوٹا پھوٹا نظام ملا تھا لیکن ہم نے اسے ٹھیک کرنے کا عہد کر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں حادثے کی وجوہات کا پتہ چل جائے گا اور ذمہ داروں کا تعین بھی کیا جائے گا۔

فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ ریلوے نظام پر کروڑوں مسافروں اور سامان کی نقل وحمل کا انحصار ہوتا ہے لیکن آج تک اس کی بہتری پر کوئی کام نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ 6 کروڑ مسافر سالانہ ریلوے کے ذریعے سفر کرتے ہیں مگر ہم ذمہ داری لیتے ہیں اور نظام کو ٹھیک کرنے کا عہد پورا کریں گے۔

فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ جب وزیراعظم چین گئے تھے تو وہاں انہوں نے سب سے پہلے ایم ایل ون کی بات کی اور اس سال ایم ایل ون پر کام شروع ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون 1800 کلومیٹر طویل ہوگا جو کراچی سے پشاور جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاں حادثہ پیش آیا ہے وہاں پر ٹریک کمزور نہیں تاہم اصل وجوہات کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں مستقبل کے معاملات پر بات کرنی چاہیے، ہم ریلوے کو بند نہیں کرسکتے کیوں کہ اس کے ہزاروں ملازمین ہیں۔

فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ حادثہ کی نہ کوئی وضاحت ہوتی ہے نہ کوئی دفاع کرسکتا ہے لیکن یہ دیکھنا ہے کہ بنیادی وجہ کیا ہے۔

سعدرفیق کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ میں ان کی تمام باتیں مسترد کرتا ہوں ن لیگ دور میں ایم ایل ون کا پی سی ون منظور نہیں ہوا تھا۔

فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ سعد رفیق کے دور میں اس سے دوگنے حادثات ہوئے تھے مگر انہوں نے سسٹم ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کی کیوں کہ ریلوے ان کی ترجیح نہیں تھی۔

متعلقہ خبریں