حجاب پرپابندی کو سیکولر انتہاء پسندی سمجھتا ہوں، وزیراعظم

نائن الیون کےبعد اسلام کیخلاف جھوٹا پروپیگنڈا ہوا

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک میں حجاب پر پابندی سیکولر انتہاپسندی سمجھتا ہوں۔

وزیراعظم عمران خان نے کينيڈين ٹی وی چینل کو انٹرويو دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مغرب ميں اسلام کيخلاف جھوٹا پروپيگنڈا ہوا اور نائن الیون کے بعد دہشتگردوں کو اسلام سے جوڑا گیا جبکہ کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ انتہاء پسند ہر معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں۔ مغرب میں حجاب پر پابندیاں بھی اسلاموفوبيا کی بڑی وجہ ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ نائن اليون کے بعد اسلامی دہشت گردی، اسلامی بنياد پرستی جیسی اصطلاحيں رائج ہوئيں اور مغربی ممالک کے سربراہان نے ان کا استعمال کيا۔ عام آدمی اعتدال پسند مسلمان اور بنياد پرست ميں فرق نہيں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ حجاب پر پابندی سیکولر انتہاپسندی سمجھتا ہوں، اگر کوئی اپنا سر ڈھانپنا چاہے تو يہ اتنا بڑا مسئلہ کيوں ہے؟ حجاب کا بڑا مسئلہ بننے کی بنيادی وجہ اسلام کے متعلق غلط فہمی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سے بات ہوئی ہے کینیڈا میں پاکستانی خاندان پر حملے کے خلاف سخت ایکشن لینا ہوگا۔ کینیڈین وزیراعظم کو معاملے کی سنگینی کا احساس ہے لیکن بہت سے عالمی رہنماؤں کی طرف سے کینیڈا میں مسلم خاندان کے ساتھ پیش آنے والےدشت گردی کے واقعے پر موثر ردعمل سامنے نہیں آیا۔

کینیڈا:دہشتگرد حملے میں شہید مسلم فیملی کی تدفین کردی گئی

مغرب ميں اسلاموفوبيا اس ليے پھيلا کيوں کہ اسلام کو دہشت گردی سےغلط طور پر منسوب کيا گيا۔ سوشل ميڈيا پر مسلمانوں کے خلاف نفرت پھيلائی جارہی ہے، دنيا بھر کے ممالک کو اسے روکنا ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کینیڈا میں مسلمان خاندان کو شہید کرنے پر تمام پاکستانیوں کو صدمہ ہے۔

متعلقہ خبریں