حج پربیرون ملک سےعازمین آنےکی صورت میں کرونا پھیلنےکاخدشہ تھا،قبلہ ایاز

اللہ تعالی نیت کے حال جانتا ہے اور انسان بے بس ہے۔

قبلہ ایاز نے کہا ہے کہ جو مسلمان اس سال حج کی خواہش رکھتے تھے وہ اللہ کی رضا کے لیے کسی اور میدان میں انتخاب کریں۔

پیر کو سماء کے پروگرام نیا دن میں بات کرتےہوئے چئیرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز نے بتایا کہ موجودہ حالات بہت گھمبیر ہیں۔اس وجہ سے حج کو محدود کردیا گیا ہے۔ سعودی عرب نے مقامی افراد کو حج کی اجازت دی ہے اور وجہ یہ ہے کہ اگر بین الاقوامی طور پر عازمین سعودی عرب آئیں گے تو کرونا وائرس پھیلنے کے امکانات ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں بہت سختی سے کرونا وائرس کی ایس او پیز پر عمل ہورہا ہے۔ مسلمانوں کا جذباتی لگاؤ اور حج کے لیے انتظار ہوتا ہے۔ اس لیے کرونا کی چوتھی لہر کو روکنے کے لیے یہ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہے۔

قبلہ ایاز نے مزید کہا کہ رواں برس جو افراد حج پر جانے کےلیے تیار تھے، ان کو چاہئے کہ اگلے برسوں کا انتظار کریں اور اللہ سے دعا کریں۔ اس وقت انسانی جان کو انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی طور پر خطرات لاحق ہیں۔ اللہ تعالی نیت کے حال جانتا ہے اور انسان بے بس ہے۔

ہفتے کو وزارت حج اور عمرے نے اعلان کیا  کہ اس سال سعودی عرب میں رہنے والے 60 ہزار افراد حج کی سعادت حاصل کرسکیں گے۔ ان افراد کو کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے کے بعد حج کے مناسک ادا کرنے کی اجازت ہوگی۔ سعودی عرب سے باہر موجود افراد کو اس برس بھی حج کے لیے سعودی عرب آنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

وزارت کی جانب سے بتایا گیا  کہ جو افراد 18 سال سے 65 سال کے درمیان ہیں اور ان کی کرونا ویکسین کی پہلی ڈور لگ چکی ہے وہ حج کے لیے آسکیں گے۔ جن افراد کی مکمل ویکسینیشن ہوچکی ہے اور جو افراد کرونا وائرس سے مکمل صحت یاب ہوگئے ہیں،انھیں بھی حج کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔رواں برس حج کے مناسک 17 جولائی سے شروع ہو کر 22 جولائی کو مکمل ہونگے۔

سعودی عرب کی جانب سے حج کے موقع پر محدود عازمین کو اجازت دینے کا فیصلہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ  اور وائرس کی نئی اقسام سامنے آنے کے باعث کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں