حریت رہنما یاسین ملک دہشت گردی کی فنڈنگ ​​کیس میں مجرم قرار

  • بھارتی عدالت نے کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کو دہشت گردی کی فنڈنگ ​​کیس میں مجرم قرار دیا ہے۔ 

یاسین ملک کو 22 فروری 2019 کو سری نگر سے گرفتار کرنے کے بعد نئی دہلی منتقل کردیا گیا تھا، ان  پر دہشت گرد کارروائیوں، دہشت گردی کے لیے فنڈز جمع کرنےاور ملک دُشمن خیالات کے اظہار جیسے الزامات تھے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کی خصوصی عدالت یاسین ملک کے خلافبھارت کے متنازع ترین قانون (یو اے پی اے ایکٹ) کے تحت مقدمے کی سماعت کررہی تھی۔

دوران سماعت یاسین ملک نے دوران سماعت کسی بھی وکیل کی مدد لینے سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ گواہوں کے ساتھ خود ہی جرح کریں گے۔

بھارتی میڈیا نے گزشتہ ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ یاسین ملک نے اپنے خلاف لگائے الزامات قبول کرلیے ہیں، تاہم یاسین

ملک کی اہلیہ مشعال ملک کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی دہشت گرد کارروائی یا دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کا اعتراف نہیں کیا بلکہ انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ اسی طرح حق خود ارادیت کی جدوجہد کررہے ہیں جیسے بھگت سنگھ اور  گاندھی نے کی بھی تھی۔

بھارتی عدالت نے اسی بیان کی بنیاد پر یاسین ملک کو مجرم قرار دے دیا ہے۔ عدالت میں 25 مئی کو یاسین ملک کی سزا پر بحث ہوگی۔

عدالت نے نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی کو ہدایت کی ہے کہ وہ یاسین ملک کی مالی حالت معلوم کرے۔ عدالت نے یاسین ملک سے اپنے اثاثوں سے متعلق بیان حلفی جمع کرانے کو بھی کہا ہے۔

گزشتہ روز پاکستان میں متعین بھارتی ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا تھا۔

پاکستانی حکام  نے  بھارتی ناظم الامور سے یاسین ملک پر عائد من گھڑت اور بے بنیاد الزامات کی شدید مذمت کی اور انہیں احتجاجی مراسلہ بھی سپرد کیا گیا۔

پاکستان نے مطالبہ کیا کہ حریئت پسند کشمیری قیادت کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھ کر یرغمال نہ بنایا جائے، یاسین ملک کو عائد تمام بے بنیاد الزامات سے بری کرکے رہا کیا جائے۔

تازہ ترین

عمرسرفرازکی گورنرکےعہدےسےبرطرفی کےخلاف درخواست پراعتراض عائد
پشاور:ایس ایچ او شکیل خان قاتلانہ حملے میں شہید
ڈالر مسلسل 11ویں روز مہنگا
کراچی:9ویں جماعت کا بائیولوجی کا پرچہ بھی آؤٹ،سوشل میڈیا پروائرل