حمزہ شہباز کی رہائی: کب اور کیوں گرفتار ہوئے تھے؟

لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت کا فیصلہ سناتے ہوئے ان کی ضمانت منظور کر لی  ہے اور ان کو جیل سے رہا کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
رہائی کا حکم بدھ کو جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے حمزہ شہباز کی ضمانت کی درخواست پر سنایا ہے۔ 
 
مزید پڑھیں
حمزہ شہباز کے وکیل نے دوران سماعت عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ’ان کے موکل کو حراست میں 20 ماہ ہو چکے ہیں اور 17 مہینے کے بعد ان کا ٹرائل شروع کیا گیا اور ابھی اس ٹرائل کو مکمل ہونے میں مزید ایک سال لگ سکتا ہے۔‘
حمزہ شہباز کے وکیل نے مزید کہا کہ ’اسی طرح پہلے جو الزام لگائے گئے تھے ان کو ٹرائل کا حصہ نہیں بنایا گیا جس میں ایک بڑا الزام آف شور کمپنیوں کا تھا۔‘
دوسری طرف نیب پراسیکیوٹر نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے دلائل دئیے کہ ’حمزہ شہباز شریف پر منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات ہیں۔ سنہ 2003 میں ان کے اکاؤنٹ میں چند لاکھ روپے تھے جبکہ 2018 میں ان کے اثاثے 53 کروڑ ہو چکے تھے۔ بیرون ملک سے آٹھ کروڑ 10 لاکھ کی ٹی ٹیز ان کے اکاونٹ میں آئیں۔‘

نیب پراسیکیوٹر نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا حمزہ شہباز شریف پر منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
نیب پراسیکیوٹر کے مطابق ’حمزہ شہباز اس رقم کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔ ہائی کورٹ ان کی ضمانت پہلے بھی خارج کر چکی ہے۔‘
عدالت نے دونوں طرف کے دلائل سننے کے بعد حمزہ شہباز کی ضمانت ایک، ایک کروڑ روپے کے دو ضمانتی مچلکوں کے عوض منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
تاہم عدالت کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کرے گی۔
خیال رہے کہ لاہور ہائیکورٹ دو مرتبہ ضمانت کی درخواست واپس لیے جانے کی بنیاد پر حمزہ شہباز کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر چکی ہے۔ جبکہ انہیں پاکستان کے احتساب کے ادارے قومی احتساب بیورو نے جون 2019 میں اس وقت احاطہ عدالت سے گرفتار کیا تھا جب انہوں نے لاہور ہائیکورٹ سے اپنی عبوری ضمانت کی درخواست واپس لے لی تھی۔ رواں سال جنوری میں سپریم کورٹ بھی ان کی ضمانت کی درخواست واپس لیے جانے کی بنیاد پر خارج کر چکی ہے۔ 
حمزہ شہباز کے خلاف نیب نے اس وقت دو ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کر رکھے ہیں جن میں سے ایک منی لانڈرنگ اور دوسرا آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق ہے۔ نیب نے عدالت کو بتایا کہ ان مقدمات میں گواہان کی تعداد 110 ہے جبکہ آٹھ گواہان اپنے بیانات ریکارڈ کروا چکے ہیں۔ 

حمزہ شہباز کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کو حراست میں 20 ماہ ہو چکے ہیں. (فائل فوٹو: اے ایف پی)
نیب نے حمزہ شہباز کے وارنٹ گرفتاری تین اپریل 2019 کو جاری کیے تھے جبکہ پانچ اپریل کو ماڈل ٹاون میں ان کی رہائش گاہ پر نیب ٹیم انہیں گرفتارکرنے پہنچی تاہم وہ کامیاب نہیں ہوئی۔
اس سے اگلے روز نیب ٹیم پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ دوبارہ ان کی رہائش گاہ پر انہیں گرفتار کرنے پہنچی اور پانچ گھنٹے کے گھیراؤ کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر ان کی گرفتاری کے عمل کو روک دیا گیا۔
اس وقت کے چیف جسٹس سردار محمد شمیم خان نے سینچر کے روز اپنے چیمبر میں مختصر سماعت کے بعد ان کی گرفتاری روکنے کا حکم جاری کیا تھا بعد ازاں انہوں باقاعدہ طور پر عدالت سے عبوری ضمانت کروائی۔ 
جیل جانے سے پہلے حمزہ شہباز 84 دن جسمانی ریمانڈ پر نیب کی حراست میں رہے اور پھر انہیں عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا۔