حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں نے انتخابات کی تاریخ پر مذاکرات کی مخالفت کر دی

خواجہ سعد رفیق اور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ’ہمارے اتحادیوں کو عمران خان کے ساتھ مذاکرات پر تحفظات ہیں۔‘ (فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان)

پاکستان پیپلز پارٹی، جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کو پیغام بھجوایا ہے کہ انہیں پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ قبل از وقت انتخابات کی تاریخ کے لیے مذاکرات پر تحفظات ہیں۔ 
سنیچر کو اتحادی جماعتوں نے قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی تحلیل کرنے کی سختی سے مخالفت کر دی ہے۔ 
مزید پڑھیں
دوسری جانب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بلوچستان کی حکمراں جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) نے بھی صوبائی اسمبلی نہ توڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔ 
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں اور وفاقی وزرا خواجہ سعد رفیق اور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ’ہمارے اتحادیوں کو عمران خان کے ساتھ مذاکرات پر تحفظات ہیں۔‘
اس حوالے سے ذرائع نے اردو نیوز کو بتایا ہے کہ عمران خان نے حکومت کو انتخابات کی تاریخ کے لیے مذاکرات کی پیشکش کی تو حکومت نے اس معاملے پر اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کا فیصلہ کیا۔ جس کا اظہار لیگی رہنماؤں نے اپنی پریس کانفرنس میں بھی کیا۔
ذرائع کے مطابق اس سے قبل کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے رابطے کیے جاتے، پیپلز پارٹی کی جانب سے ن لیگ کو یہ پیغام دے دیا گیا ہے کہ ’وہ سندھ اسمبلی کسی بھی صورت وقت سے پہلے تحلیل نہیں کرے گی۔‘
’اگر عمران خان سے مذاکرات کرنے ہیں تو وہ سیاسی تناؤ کے خاتمے اور اپنے وقت پر ہونے والے انتخابات میں پُرامن سیاسی ماحول اور اس حوالے سے دیگر معاملات پر ہی کیے جائیں۔ مذاکرات سے قبل کوئی شرط قابل قبول نہیں۔‘

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ’صادق سنجرانی نے لاہور میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں انہیں وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا پیغام پہنچایا۔‘ (فائل فوٹو: اے پی) 
ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ ’جے یو آئی اور اے این پی کی جانب سے بھی ن لیگ کو یہی پیغام دیا گیا ہے کہ کسی بھی اسمبلی کی تحلیل اور قبل از وقت انتخابات حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے ایجنڈے کا حصہ نہیں ہونے چاہییں۔‘
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے سنیچر کو ماڈل ٹاون لاہور میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران انہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کی جانب سے صوبائی اسمبلی تحلیل نہ کرنے کے فیصلے کے بارے میں وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کا پیغام پہنچایا۔ 
ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ ’بلوچستان حکومت نے اس سلسلے میں وفاق میں حکمراں اتحاد کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اسمبلیوں کو اپنی مدت مکمل اور انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی ہونے چاہییں۔‘