حکومتی سختی کے بعد ویکسین نہ لگوانا آپ کو مہنگا کیوں پڑ سکتا ہے؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حکومت کی جانب سے ویکسین نہ لگوانے والوں کے خلاف سخت اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
حکومت نے صوبائی دارالحکومت لاہور میں تمام پرائیویٹ اداروں اور کاروباری مراکز کو پانچ روز کا الٹی میٹم دے دیا ہے کہ ان کے سٹاف کا کوئی ممبر بھی ویکسین کے بغیر ہوا تو عمارت کو سیل کر دیا جائے گا۔ جبکہ یہی الٹی میٹم ریستورانوں کو دو دن کا دیا گیا ہے۔
لاہور کے علاقے جوہر ٹاون میں ضلعی انتظامیہ نے ایک ہوٹل سیل کیا ہے جس کے اندر ویکسین نہ لگوانے والے گاہکوں کو کھانا کھلایا جا رہا تھا۔
مزید پڑھیں
ہوٹل کے مالک محمد عمیر نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’حکومتی اہلکار آئے اور انہوں نے ہوٹل کے اندر موجود کھانا کھانے والے گاہکوں سے ان کے شناختی کارڈ نمبر پوچھے اور اس کے بعد ان کو آن لائن چیک کیا تو اکثریت لوگوں کے ریکارڈ کے مطابق انہیں ویکسین نہیں لگی ہوئی تھی۔ جس کے بعد اسی وقت میرے ہوٹل کو سیل کر دیا گیا۔‘ 
انہوں نے بتایا کہ ’مجھے نہیں اندازہ تھا کہ حکومت اس لیول کی سختی کرے گی اب لوگ ویکسین لگوا کر نہیں آئے رہے تو کیا ہم ان کو کھانا نہ دیں؟ حکومت لوگوں میں شعور پیدا کرے میری ذمہ داری میرے سٹاف کی ہے، میں نے خود بھی اور میرے سٹاف نے ویکسین لگوا لی ہے۔ اب مجھے نہیں پتا میرا ہوٹل یہ کب کھولیں گے۔‘  
ضلعی انتظامیہ نے عید الاضحی کے لیے لگائی گئی مویشی منڈیوں میں آںے والے تمام بیوپاریوں اور خریداروں کے لیے بھی ویکسین کی شرط عائد کر رکھی ہے۔
اس ضمن میں پابندی نہ کرنے والے تین بیوپاریوں پر مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ لاہور کے ایک اسسٹنٹ کمشنر عدنان رشید نے اردو نیوز کو بتایا ’ویکسین سے متعلق حکومت نے زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کر لی ہے اب ویکیسن نہ لگوانا آپ کو مہنگا پڑ سکتا ہے۔ ہم نے تمام ریستوران مالکان کو بتا دیا ہے کہ بغیر ویکسین کے آنے والا کوئی شخص ہوٹل کے اندر بیٹھ کے کھانا نہیں کھا سکتا۔ اسی طرح جم ہو کوئی شاپنگ مال ہو دکان ہو یا کوئی دفتر، وہاں پر آنے والے تمام افراد ویکسین شدہ نہیں ہوں گے تو وہ عمارت میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔‘
’اب کئی ہوٹلوں نے اپنے دروازوں پر ایک ملازم کھڑا کیا ہے جو ہر آنے والے گاہک کا شناختی کارڈ دیکھ کے اپنے موبائل پر 1166 پر ڈال کر چیک کرتا ہے اور اسی وقت اسے پتا چل جاتا ہےکہ آںے والا ویکسین شدہ ہے یا نہیں اگر نہیں تو وہ ان کو گاڑیوں میں کھانا دے رہے ہیں۔‘  

عدنان رشید نے بتایا کہ ’اب حکومت کی جانب سے پانچ روز کی ڈیڈلائن دی گئی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
عدنان رشید نے مزید بتایا کہ ’اب حکومت کی جانب سے پانچ روز کی ڈیڈلائن دی گئی ہے تاکہ ان پانچ دنوں میں تمام لوگ اپنا طریقہ کار وضع کر لیں۔ اس کے بعد پھر عمل درآمد شروع ہو جائے۔ اور جہاں کہیں بغیر ویکیسن کے آنے والے کو سروس فراہم کی جا رہی ہو گی اس کو سیل کر دیا جائے گا۔ ہماری ٹیمیں ایک ایک پلازے میں جا کر وہاں نوٹس چسپاں کر رہی ہیں کہ بغیر ویکسین کے آنے والوں کا داخلہ ممنوع ہے۔‘  
حکومت کی جانب سے کی جانے والی سختیوں کے بعد لاہور کے تمام ویکسینشین مراکز پر شدید رش کے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
قذافی اسٹیڈیم کے باہر واقع واک تھرو ویکسینیشن سینٹرز پر بھی لمبی قطاریں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔
اس سینٹر کے انچارج بینک آف پنجاب کے سینئیر افسر اسد ضیا نے بتایا کہ ’پچھلے دو دنوں میں 100 فیصد رش بڑھا ہے۔ یہ سینٹر شام 8 بجے سے رات دو بجے تک چلتا ہے۔ جس میں عام طور پر اڑھائی سو کے قریب افراد کی ویکسینیشن ہوتی ہے۔ لیکن اب کل سے ہم پانچ سو سے زائد افراد کو ویکسین لگا رہے ہیں اور آج تو کل سے بھی رش زیادہ ہے۔‘