حکومتی شخصیات کا سکیورٹی لینے سے انکار پھر بھی گاڑیوں کے قافلے، کیوں؟

وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر حکومت میں شامل افراد کے سکیورٹی اور پروٹوکول کے معاملے کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں زیربحث لاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ خود نجی تقریبات میں بغیر سکیورٹی اور پروٹوکول کے جائیں گے جبکہ صرف وفاقی وزرا کو ہی اپنی گاڑی پر جھنڈا لگانے کی اجازت ہوگی۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کی جانب سے ایسا کوئی اعلان سامنے آیا ہے۔ اس سے پہلے فروری 2021 میں بھی وزیراعظم وزرا سے اضافی سکیورٹی واپس کرنے کا کہہ چکے ہیں۔
کابینہ ڈویژن حکام کے مطابق وزیراعظم کی سکیورٹی کا فیصلہ وہ خود نہیں کرتے بلکہ متعلقہ ادارے صورت حال کا جائزہ لے کر کرتے ہیں اور اگر ظاہری سکیورٹی نہ بھی ہو تب بھی ان کے ساتھ نظر نہ آنے والی سکیورٹی موجود ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں
دوسری جانب حکام نے بتایا ہے کہ قومی پرچم کے استعمال کے قواعد نیشنل فلیگ رولز 2002 میں طے کیے گئے ہیں جس کے تحت وزیر مملکت کی گاڑی پر سرکاری جھنڈا لگانے کی اجازت نہیں ہے تاہم اکثر و بیشتر اس کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
کابینہ نے کوئی نیا فیصلہ نہیں کیا بلکہ نیشنل فلیگ رولز پر عمل در آمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
عمران خان نے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ وہ خود  وزیراعظم ہاؤس کے بجائے بنی گالہ میں ہی رہائش رکھیں گے۔
انتہائی ضروری سکیورٹی اور گھر پر دو تین ملازمین سے گزارا چلائیں گے۔ تاہم بعد ازاں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انھیں وزیراعظم ہاؤس میں ملٹری سیکریٹری کے لیے مخصوص رہائش گاہ کی تزئین و آرائش کے بعد وہاں شفٹ ہونا پڑا۔
اس کے باوجود وہ  بنی گالہ میں بھی رہتے ہیں۔ وہاں آنے جانے کے لیے سکیورٹی روٹ بھی لگتا ہے اور اکثر اوقات وہ ہیلی کاپٹر پر بنی گالہ سے وزیراعظم ہاؤس آتے ہیں۔
اس پر جب ماضی قریب میں اپوزیشن کی جانب سے اعتراض ہوا تو اس وقت وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ ’ہیلی کاپٹر سستا پڑتا ہے اور وزیراعظم 55 روپے فی کلومیٹر والے ہیلی کاپٹر میں سفر کرتے ہیں۔‘ اس پر میڈیا اور سوشل پر فواد چوہدری کو کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

وزیراعظم کی ذاتی رہائش گاہ پر ایف سی، پولیس اور سپیشل برانچ کے 215 اہلکار تعینات ہیں۔ (فائل فوٹو)
وزیراعظم کے حال ہی میں دورہ کوئٹہ کے دوران 30 سے زائد سکیورٹی اور پروٹوکول کی گاڑیوں کے قافلے کی ویڈیو سامنے آنے پر بھی تنقید ہوتی رہی ہے۔
صرف وزیراعظم عمران خان ہی نہیں بلکہ گورنر اور وزیراعلیٰ پنجاب کا سکیورٹی پروٹوکول اور ہیلی کاپٹر بھی اکثر و بیشتر خبروں کی زینت بنتا رہتا ہے۔
وفاقی حکومت کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے نئے احکامات کا پس منظر بھی وزیراعلیٰ پنجاب کے ہیلی کاپٹر کا مبینہ طور پر ان کے پرنسپل سیکریٹری کے دوستوں کے زیر استعمال آنے اور وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب کی اپنے حلقے میں پورے سکیورٹی کانوائے کے ساتھ جانے کے حوالے سے آنے والی ویڈیو کی روشنی میں ہے۔
وزیراعظم اور وفاقی وزرا کی جانب سے سابق حکمرانوں کو سکیورٹی اور پروٹوکول کی مد میں نہ صرف تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے بلکہ جولائی 2019 میں کابینہ نے سابق حکمرانوں سے سکیورٹی اخراجات وصول کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
اس اجلاس کے بعد وزیر مواصلات مراد سعید نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف نے کیمپ آفس اور میڈیکل اخراجات کی مد میں چار ارب 31 کروڑ 83 لاکھ روپے سرکاری خزانے سے خرچ کیے، جبکہ سابق صدر آصف زرداری نے تین ارب 16 کروڑ 41 لاکھ خرچ کیے۔
نواز شریف کی سکیورٹی پر چار ارب31 کروڑ سے زائد، آصف زرداری کی سیکیورٹی پر 316 کروڑ 41 لاکھ 18 ہزار روپے سے زائد، شہباز شریف پر 872 کروڑ 79 لاکھ 59 ہزار روپے جب کہ یوسف رضا گیلانی نے 24 کروڑ سے زائد خرچ کیے گئے۔

کابینہ ڈویژن حکام کے مطابق وزیراعظم کی سکیورٹی کا فیصلہ وہ خود نہیں کرتے بلکہ متعلقہ ادارے کرتے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
شاہد خاقان عباسی نے اپنے دور حکومت میں 35 کروڑ، راجہ پرویز اشرف نے بطور وزیراعظم 32 کروڑ اور سابق صدر ممنون حسین نے 30 کروڑ روپے سرکاری خزانے سے سکیورٹی اور پروٹوکول خرچ کیے۔
وفاقی کابینہ نے وزیراعظم کے کیمپ آفس قائم کرنے کا کلچر ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ اس کے ذریعے سرکاری وسائل نجی رہائش گاہوں پر خرچ ہو رہے تھے تاہم دوسری جانب وزارت داخلہ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی بنی گالہ رہائش پر 500 سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی ذاتی رہائش گاہ کی سکیورٹی کے لیے ایف سی، پولیس اور سپیشل برانچ کے مجموعی طور پر 215 اہلکار تعینات ہیں۔ جن میں سے وزیراعظم کی ذاتی رہائش گاہ پر 129 سکیورٹی ڈویژن کے اہلکار، بیرونی حصار پر 75 پولیس اہلکار تعینات ہیں، رہائش گاہ کی چھت اور قریبی پہاڑ کی چوٹی پر 11 پولیس اہلکار تعینات ہیں۔
وزیراعظم کی رہائش گاہ پر برانچ کے 11، کوئیک رسپانس فورس کے 32 اہلکار، ایف سی کے 63 اہلکار گشت پر اور 12 پہاڑ کی چوٹی پر ہیں جب کہ بنی گالہ رہائش گاہ کے لیے پولیس کی چار پک اپ اور ایک موٹر سائیکل بھی موجود ہے۔
صرف وزیراعظم ہی نہیں بلکہ وفاقی کابینہ کے ارکان کی سکیورٹی اور پروٹوکول پر بھی سالانہ کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ کابینہ ڈویژن کے مطابق سکیورٹی اور پروٹوکول مقاصد کے لیے گذشتہ تین سال میں 43 نئی گاڑیاں بھی خریدی گئی ہیں۔ 
کابینہ ڈویژن کے مطابق وزرا اور مشیران کی گاڑیوں پر گذشتہ تین سال میں ایندھن پر چار کروڑ 68 لاکھ روپے اخراجات آئے۔ گذشتہ تین سال میں وزرا اور مشیران کی گاڑیوں کی مرمت پر تین کروڑ 88 لاکھ روپے اخراجات آئے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سکیورٹی اور پروٹوکول کے معاملہ زیر بحث آیا۔ (فوٹو: پی ایم ہاؤس)
کابینہ ڈویژن کی جانب سے فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کے زیر استعمال 2017 ماڈل کی 4600 سی سی کی ایک ایک بلٹ پروف گاڑی ہے۔ مشیر داخلہ مرزا شہزاد اکبر کو دو دو گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں جن میں ایک 1800 سی سی اور ایک بلٹ پروف 4608 سی سی گاڑی ہے۔
وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کے زیر استعمال بھی دو گاڑیاں ہیں جن میں ایک 1800 سی سی اور ایک 4600 سی سی بلٹ پروف گاڑی ہے۔ وفاقی وزیر علی زیدی اور سیکریٹری داخلہ کے پاس بھی 4600 سی سی بلٹ پروف گاڑی ہے۔
محمد میاں سومرو، شبیر علی اور علی محمد خان کے پاس 1800 سی سی کی ایک ایک اور ایک ایک ڈبل کیبن گاڑیاں ہیں۔
خیال رہے کہ 2018 میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے 1853 سیاسی، مذہبی اور سماجی شخصیات سمیت غیر متعلقہ افراد سے سکیورٹی واپس لینے کے احکامات جاری کیے تھے جس کے تحت وی آئی پی شخصيات کی سکيورٹی پر مامور 4610 اہلکار واپس بلوائے گئے تھے۔ 
پنجاب پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق 29 سیاستدانوں کی سکیورٹی پر مامور 1347 اہلکار واپس بلوائے گئے، جبکہ 527 سول و پوليس افسران کی حفاظت پر مقرر 1074 اہلکار ديگر کاموں کی طرف لوٹ گئے۔