حکومت ویکسین بروقت خریدتی تو جانیں بچ سکتی تھیں،مصدق ملک

پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما مصدق ملک کا کہنا ہے کہ اگر حکومت بروقت کرونا ویکسین خرید لیتی تو دسمبر کے بعد اس وبا سے مزید ہزاروں اموات نہ ہوتیں۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما ن لیگ مصدق ملک کا کہنا تھا کہ اسد عمر کہتے تھے کہ اگر مہنگی ویکسن خرید لیتے تو نیب کیسز کا خطرہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی ملک میں لوگ کرونا سے مررہے ہیں حکومت کو چاہیے کہ ویسکین منگوانے اور بنانے میں پرائیویٹ سیکٹر کو شامل کرے کیوں کہ تمام کام پبلک سیکٹر کے بس کی بات نہیں۔

مصدق ملک کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں چار پانچ کمپنیاں ایسی ہیں جن کے پاس ویکسین بنانے کی صلاحیت ہے مگر ان کو حکومت کی اجازت کی ضرورت ہے۔

رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ ہم جو ڈیڑھ سال سے کہہ رہے تھے آج شوکت ترین وہی کہہ رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ اب تک حکومت کی کارکردگی صفر ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب ترقی کی شرح کم ہوتی ہے تو لوگوں کی نوکریاں چلی جاتی ہیں۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما پیپلزپارٹی فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ ہمارے دور حکومت میں ہم گندم برآمد کرتے تھے مگر آج ملک میں آٹے کا بحران ہے کیوں کہ حکومت نے کسانوں کو کوئی سہولت نہیں دی۔
انہوں نے کہا کہ کرونا وبا کی وجہ سے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے لنگر خانوں سے آپ پورے ملک کو کھانا نہیں کھلا سکتے۔

رہنما پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ماضی میں تحریک انصاف والے کہتے تھے کہ ہم نے معیشت تباہ کی ہے جبکہ آج ہمارے دور کے وزیروں کو لگایا جارہاہے۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی میں نیب کے حوالے سے آڈٹ اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ ہے لیکن چیئرمین کمیٹی کہتے ہیں کہ جب بھی اجلاس بلاتے ہیں اسپیکر قومی اسمبلی اسے مؤخر کردیتے ہیں کیوں کہ چیئرمین نیب اتنا اثرو رسوخ رکھتے ہیں کہ اسپیکر قومی اسمبلی بھی ان سے خوفزدہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ایک سال پہلے حیدر آباد یونیورسٹی کا افتتاح کیا تھا وہ یونیورسٹی کہاں بنی ہے ہمیں بتایا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم صرف چندہ جمع کرنے کے لیے سال میں ایک مرتبہ کراچی آتے ہیں۔

رہنما پیپلزپارٹی نے دعویٰ کیا کہ کرونا صورتحال میں نیشنل ڈیزاسٹر منجمنٹ میں بڑے پیمانے پر گھپلے ہوئے ہیں جس کی تحقیقات ضروری ہے۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما تحریک انصاف عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ جب ہمیں تباہ حال معیشت ملی تھی اس وقت پہلے دن سے 12 ارب ڈالر ادا کرنے تھے اور خزانہ خالی تھا۔

عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پچھلے وزیرخزانہ نے اپنے حساب سے بہتر فیصلے کیے تھے اسد عمر نے پوری کوشش کی تھی کہ آئی ایم ایف کے بغیر معیشت چل جائے لیکن ایسا ہو نہیں سکا۔

انہوں نے کہا کہ 20 ارب ڈالر کا جو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ورثے میں ملا تھا اس کو ہم نے کم کردیا جبکہ 3 سالوں میں کسان کا کوئی نقصان نہیں ہوا اور سب سے بہتر گنے کا ریٹ ہم نے کسانوں کو دیا تھا۔

تحریک انصاف کی ضمنی الیکشن میں ہارنے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ضمنی الیکشن میں صرف 2 سیٹیں ایسی تھیں جو جنرل الیکشن میں ہم جیت چکے تھے باقی سیٹٰیں اپوزیشن جماعتوں کے خالی کردہ نشستیں تھیں۔
این ڈی ایم اے میں مبینہ کرپشن سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے نے ہنگامی حالات میں فیصلے کیے تھے اگر تمام چیزیں رول کے مطابق کی جاتیں تو حالات بہت خراب ہوجاتے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے نے نیک نیتی سے فیصلے کیے۔

متعلقہ خبریں