حکومت کی ’میری گاڑی سکیم‘ ماضی کی سکیموں سے ’مختلف‘ کیسے؟

تحریک انصاف کی حکومت نے کم آمدن اور متوسط طبقے کے افراد کو گاڑی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے نئی آٹو پالیسی کے علاوہ ‘میری گاڑی سکیم‘ متعارف کرنے کا اعلان کیا ہے۔  
اس سکیم کا مقصد کم آمدنی والے افراد کو اپنی گاڑی خریدنے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ ماضی میں بھی صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی جانب سے ’آٹو فنانسگ‘ کی مختلف سکیمیں متعارف کروائی گئی تھیں۔  

’میری گاڑی سکیم‘ کیا اور کس کے لیے؟  

حکومت کی جانب سے اس سکیم کا اعلان ان شہریوں کے لیے کیا جائے گا جو پہلی بار اپنی گاڑی خریدنا چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیں
اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پارلیمانی سیکریٹری برائے صنعت و پیداوار عالیہ حمزہ ملک نے بتایا کہ ہر وہ شہری جو اپنی پہلی گاڑی خریدنا چاہتا ہے اس سکیم سے فائدہ اٹھا سکے گا۔
’سٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر حکومت ایک ایسی پالیسی مرتب کرنے جارہی ہے جس سے ڈاؤن پیمنٹ میں کمی اور آسان اقساط میں شہریوں کو نئی گاڑی خریدنے کی سہولت میسر ہوگی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’حکومت چاہتی ہے کہ جو افراد موٹر سائیکل کے مالک ہیں اور فیملی کے لیے ان کو گاڑی کی ضرورت ہے انہیں آسانی فراہم کریں تاکہ وہ موٹر سائیکل سے گاڑی پر منتقل ہوجائیں۔‘  
عالیہ حمزہ ملک نے بتایا کہ ’اس سکیم کے تحت نئی اور پرانی گاڑی خریدنے کی سہولت میسر آئے گی جبکہ جو شہری بیرون ملک سے گاڑی درآمد کرنا چاہتے ہیں حکومت انہیں بھی سہولت فراہم کرے گی تاکہ وہ مرضی سے اپنی پہلی گاڑی خرید سکیں۔‘  
اس سکیم کے تحت 1000 سی سی تک کی گاڑی خریدنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ 

حکومت نے ’میری گاڑی سکیم‘ متعارف کرنے کا اعلان بجٹ تقریر کے دوران کیا تھا  فائل فوٹو: پکسابے)
عالیہ حمزہ ملک کے مطابق ’حکومت آٹو فنانسنگ پر کم سے کم شرح سود طے کرنے کے لیے سٹیٹ بینک اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کر رہی ہے تاکہ آٹو فنانسنگ کے لیے شرح سود میں کمی کی جائے اور حکومت اس حوالے سے سبسڈی فراہم کرے تاکہ کم سے کم بوجھ شہریوں پر ڈالا جائے۔‘
حکومت نے ’میری گاڑی سکیم‘ متعارف کرنے کا اعلان تو بجٹ تقریر کے دوران کر دیا تھا تاہم یہ سکیم کب شروع ہوگی اور اس سے شہری کب مستفید ہو سکیں گے اس حوالے سے کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی۔  
پارلیمانی سیکریٹری برائے صنعت و پیدوار عالیہ حمزہ ملک نے اردو نیوز کو  مزید بتایا کہ ’حکومت اور سٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے اور ہم پر امید ہیں کہ اکتوبر میں اس سکیم کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا۔‘

’میری گاڑی سکیم‘ ؛ کیا ماضی کی سکیموں سے مختلف ہوگی؟

پارلیمانی سیکریٹری برائے صنعت و پیداوار عالیہ حمزہ ملک دعوی کرتی ہیں کہ ’اس حکومت نے آٹو انڈسٹری میں جو پالیسی مرتب کی ہے وہ اس سے پہلے کبھی سامنے نہیں آئی۔ پہلی بار گاڑیوں کی قیمتوں میں کی گئی ہے۔ نہ صرف چھوٹی گاڑیوں بلکہ 2000 سی سی تک کی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی گئی ہے جو کہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا اور یہ قیمتیں حکومت کی جانب سے ٹیکسز میں کمی کی وجہ سے آئی ہے۔‘ 

عالیہ ملک نے بتایا کہ ڈاؤن پیمنٹ میں کمی اور آسان اقساط میں شہریوں کو نئی گاڑی خریدنے کی سہولت میسر ہوگی (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ لوگ موٹر سائیکل سے گاڑی پر آجائیں اور نوجوان اپنی گاڑی کے مالک بن جائیں جبکہ ماضی کی سکیموں میں سیاسی جماعتوں کے لوگوں نے فوائد اٹھا کر ملک کو نقصان پہنچایا۔‘  
آل پاکستان کار ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے حکومت کی ’میری گاڑی سکیم‘ کے حوالے سے کہا کہ ’ماضی کی سکیموں میں بینکس نے کار فنانسنگ دی جس سے کچھ لوگوں نے فائدہ بھی اٹھایا لیکن متعدد لوگوں نے گاڑیاں لے کر پیسے واپس نہیں کیے اور لون ڈیفالٹر ہو گئے جس کی وجہ سے سکیمز کامیاب نہیں ہوئیں۔‘ 
انہوں نے کہا کہ حکومت کی اس پالیسی کا حال بھی ایسا ہی ہونا ہے، ’اگر حکومت چاہتی ہے کہ عام آدمی کے پاس اپنی گاڑی ہو تو گاڑیوں کی قیمتوں کو قوت خرید میں لانا ہوگا۔ اس وقت چھوٹی گاڑی ساڑھے 16 لاکھ روپے کی ہے اور ٹیکس میں کمی کی وجہ سے ایک لاکھ روپے کم بھی ہوجاتی ہے تو پھر بھی چھوٹی گاڑی عوام کی قوت خرید سے باہر ہے۔ اس لیے یہ دعویٰ کرنا کہ موٹر سائیکل چلانے والا شخص گاڑی خرید لے گا ایسا ممکن نہیں ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ سکیم اس وقت ہی کامیاب ہوگی جب بینک اس میں شفافیت کو یقینی بنائے، گاڑی کی درخواست دینے والا ہی اصل مالک ہو اور پیسے واپس بینک کو ملیں ورنہ ماضی کی طرح سرمایہ کار مختلف لوگوں کے نام پر گاڑیاں نکلوا کر کاروبار کریں گے اور بینک ڈیفالٹر بن جائیں گے۔‘   

ایچ ایم شہزاد کے مطابق جب تک مقامی طور پر گاڑیوں کے پرزے بنائے نہیں جاتے قیمتیں کم نہیں ہوں گی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایچ ایم شہزاد کے مطابق ’جب تک پاکستان میں انڈیا کی طرح مقامی طور پر گاڑیوں کے پرزے بنائے نہیں جاتے گاڑیوں کی قیمتیں عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہی رہیں گی، جو گاڑی 15 لاکھ روپے کی پاکستان کی مارکیٹ میں دستیاب ہے وہ 8 لاکھ روپے کی ہوگی تو عام آدمی کو فائدہ ہوگا۔‘  
ایچ ایم شہزاد کے مطابق ’حکومت گاڑیوں کی درآمد کرنے کی پالیسی میں نرمی لا کر گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی لا سکتی ہے اور اس سے مقامی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیوں کے معیار میں بھی بہتری آئے گی۔  
عالیہ حمزہ ملک کے خیال میں’ماضی کی حکومتوں کی پیلی ٹیکسی سکیم ہو یا وزیراعلی پنجاب کا روزگار سکیم ان تمام منصوبوں میں شفافیت موجود نہیں تھی اور سکیموں میں بدعنوانی کے باعث نیب کے کیسز بنے ہیں۔