خاتون کوہ پیما نے کم ترین وقت میں ایورسٹ سر کرنے کا ریکارڈ توڑ دیا

نیپال میں حکام کا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ کی خاتون کوہ پیما سِینگ لِن ہنگ نے صرف 26 گھنٹوں میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے ورلڈ ریکارڈ بنایا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایورسٹ بیس کیمپ کے سرکاری رابطے کے افسر گیانیندر شریستھا کا کہنا ہے کہ 44 سالہ سِینگ لِن ہنگ نے گذشتہ اتوار کو 25 گھنٹے اور 50 منٹ میں 29 ہزار فٹ سے زائد اونچے پہاڑ کو سر کیا۔
مزید پڑھیں
گیانیندر شریستھا کے مطابق ’خاتون کوہ پیما سنیچر کو دوپہر ایک بج کر 20 منٹ پر بیس کیمپ سے روانہ ہوئیں اور اگلے دن دوپہر کو 3 بج کر 10 منٹ پر پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گئیں۔‘
انہوں نے مزید کہا لیکن سِینگ لِن ہنگ کو گینز ورلڈ ریکارڈز سے سرٹیفیکیٹ لینے کے لیے اپنے دعوے کا ثبوت پیش کرنے کی ضرورت ہے۔
نیپالی حکومت چوٹی کو سر کرنے والے کوہ پیماؤں کی تصدیق کرتی ہے لیکن ریکارڈز پر سرٹیفکیٹس جاری نہیں کرتی۔
سِینگ لِن ہنگ اور ان کی مہم کے منتظمین جو اب کھٹمنڈو جا رہے ہیں، نے اس بارے میں ابھی تک کوئی بیان نہیں دیا۔

نیپال نے اس سیزن میں ایورسٹ سر کرنے کے لیے ریکارڈ 408 پرمٹ جاری کیے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
اس سے قبل ایورسٹ کو تیز رفتاری سے سر کرنے والی خاتون نیپال کی فنجو جھانگ مو لامہ تھیں جنہوں نے 39 گھنٹے اور چھ منٹ میں چوٹی سر کی تھی۔
سنہ 2017 میں سِینگ لِن ہنگ چوٹی پر پہنچنے والی ہانگ کانگ کی پہلی خاتون بنی تھیں۔ یہ ان کی ہمالیہ کی چوٹی کو سر کرنے کی تیسری کوشش تھی۔
نیپال نے گذشتہ سال کے سیزن کی وبا کی وجہ سے منسوخی کے بعد رواں سیزن میں ایورسٹ سر کرنے کے لیے ریکارڈ 408 پرمٹ جاری کیے ہیں۔
یہاں تک کہ ملک میں بڑھتے ہوئے کورونا کیسز سے نبرد آزما ہونے کے باوجود محکمہ سیاحت کے مطابق اس موسم بہار میں اب تک 350 سے زائد افراد ایورسٹ پر گئے ہیں۔
کم از کم دو ٹیموں نے کہا ہے کہ انہوں نے ایورسٹ کے بیس کیمپ میں کچھ ساتھیوں میں کورونا کیسز سامنے آنے کے بعد اپنے سفر کے منصوبے منسوخ کر دیے ہیں۔