خامنہ ای کی بھانجی تہران سے گرفتار

بشکریہ العرب نیوز

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی بھانجی فریدہ مرادخانی کو جمعرات کو تہران سے گرفتار کیا گیا ہے۔

عرب نیوز نے العربیہ کے حوالے سے کہا ہے کہ فریدہ مراد خانی اپنے گھر کی طرف جا رہی تھیں کہ جب انہیں راستے سے گرفتار کیا گیا۔

فریدہ مراد خانی کے فرانس میں جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے بھائی محمود مراد خانی نے برطانیہ سے نشر ہونے والی میڈیا آرگنائزیشن ایران انٹرنیشنل کو بہن کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔

محمود مراد خانی نے ایران انٹرنیشنل کو انٹرویو میں کہا کہ ایران میں جابر حکومت کا تسلط ہے۔

ان کے مطابق وہ (فریدہ مراد خانی) سیاسی کارکن ہیں اور ایران میں سیاسی کارکن بننے کی کوئی آزادی نہیں۔ وہ انسانی حقوق کا دفاع کرتی ہیں اور خیراتی کاموں اور پر امن مظاہروں میں حصہ بھی لیتی ہیں۔Iran Has Foiled Plot to Overthrow Islamic Republic, Says Khamenei

محمود مراد خانی نے مزید کہا کہ میرے انکل خامنہ ای اس بات سے آگاہ ہیں کہ ہم (تب سے) حکومت کے مخالف ہیں جب دہائیوں قبل یہ قائم ہوئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے اہل خانہ ’خاموش نہیں ہوں گے۔

جمعے کو فریدہ مراد خانی نے اپنی فیملی کو ٹیلی فون پر بتایا تھا کہ انہیں ایون جیل میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے بھی حکومت پر تنقید کرنے کے باعث ایران کی خفیہ ایجنسی فریدہ مراد خانی کو بلا چکی ہے۔

فریدہ مراد خانی قیدیوں کے حقوق اور سزائے موت کے خلاف مہم چلاتی رہی ہیں۔ تاہم انہیں گرفتار کرنے کی وجوہات فی الحال سامنے نہیں آ سکیں۔