خشک سالی کورونا وائرس کے بعد اگلی وبا ہوسکتی ہے: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ’پانی کی قلت اور خشک سالی کورونا وائرس کے مقابلے میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کے لیے تیار ہیں کیونکہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے خطرات بڑھ رہے ہیں۔‘
قدرتی آفات کے خطرات کے حوالے سے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی  مامی میزوتوری نے ایک رپورٹ کی اشاعت سے قبل آن لائن پریس بریفنگ میں بتایا کہ ’خشک سالی آئندہ کی وبا کے طور پر دھانے پر کھڑی ہے اور اس کے علاج کے لیے کوئی ویکسین نہیں ہے۔‘
مزید پڑھیں
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق جمعرات کو اقوام متحدہ کی جانب سے شائع کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ  ’1998 سے 2017 تک خشک سالی سے 124 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا جبکہ اس سے ڈیڑھ ارب افراد متاثر ہوئے۔‘
تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’زیادہ امکان ہے کہ یہ اعداد و شمار بھی حقیقی اعد و شمار سے کم ہیں۔‘
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’گلوبل وارمنگ نے جنوبی یورپ اور مغربی افریقہ میں خشک سالی کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔‘
’اگر دنیا نے کوئی قدم نہ اٹھایا تو خشک سالی سے متاثرہ افراد کی تعداد میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہو سکتا ہے۔‘
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ’رواں برس 130 ممالک خشک سالی کے بڑے خطرے کا سامنا کر سکتے ہیں۔‘
’اس کے علاوہ دنیا کے 23 ممالک کو آبادی میں اضافے کی وجہ سے پانی کی کمی کا سامنا ہوگا جبکہ 38 ممالک کو پانی کی قلت اور خشک سالی دونوں کے خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

’افریقہ، وسطی اور جنوبی امریکہ، وسطی ایشیا، جنوبی یورپ، میکسیکو اور امریکہ میں تیزی سے خشک سالی آسکتی ہے‘ (فوٹو: اے ایف پی)
مامی میزوتوری کا کہنا ہے کہ ’خشک سالی وائرس کی طرح ہے جو کہ طویل عرصے تک رہے گی، اس کے وسیع عالمی اثرات ہوں گے اور نقصانات کا باعث بھی بن سکتی ہے۔‘  
اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ’براعظم افریقہ کے وسیع علاقے، وسطی اور جنوبی امریکہ، وسطی ایشیا، جنوبی یورپ، میکسیکو اور امریکہ میں زیادہ اور تیزی سے خشک سالی آسکتی ہے۔‘
ایک اور سٹڈی کے مطابق ’موسمیاتی تغیرات کی وجہ سے ہونے والی خشک سالی کے باعث رواں صدی کے وسط میں یورپی یونین کی 40 فیصد زرعی درآمدات شدید متاثر ہوسکتی ہیں۔‘