خواتین کے ساتھ طالبان کا سلوک انسانیت کے خلاف جُرم کے مترادف، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ ’خواتین کا گھروں تک محدود ہونا ’قید کے مترادف ہے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)

اقوام متحدہ کے ماہرین کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ ’افغان خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ طالبان کا سلوک انسانیت کے خلاف جُرم کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے۔‘
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ اور اقوام متحدہ کے نو دیگر ماہرین کے جائزے میں کہا گیا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ سلوک ’روم سٹیٹیوٹ‘ کے تحت ’صنفی تشدد‘ کے مترادف ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
اقوام متحدہ کے ماہرین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خواتین کا گھروں تک محدود ہونا ’قید کے مترادف ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’اس سے گھریلو تشدد اور ذہنی صحت کے مسائل میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔‘
ماہرین نے رواں ماہ خاتون کارکن ظریفہ یعقوبی اور چار مرد ساتھیوں کی گرفتاری کا حوالہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ زیر حراست ہیں۔
طالبان کا کہنا ہے کہ وہ ’اسلامی قانون کی اپنی تشریح کے مطابق خواتین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں۔‘
مغربی حکومتوں نے کہا ہے کہ طالبان کو خواتین کے حقوق کے حوالے سے اپنے خیالات تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے ترجمان نے طالبان حکام سے فوری طور پر افغانستان میں سرعام کوڑے مارنے کی سزا کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

طالبان نے خواتین کے پارکوں، جِم اور تفریحی مقامات میں جانے پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
روینہ شامداسانی نے کہا کہ ’انسانی حقوق کے دفتر نے رواں ماہ اس طرح کے متعدد واقعات کی تفصیلات اکٹھی کی ہیں۔ ایک عورت اور ایک مرد کو بغیر شادی ایک ساتھ وقت گزارنے پر 39 بار کوڑے مارے گئے۔‘
اس جائزے کے ردعمل میں طالبان کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے کہا ہے کہ ’اقوام متحدہ کی طرف سے خواتین کے حقوق کے نام پر معصوم افغانوں کے خلاف پابندی کی سزائیں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ طالبان انتظامیہ نے اقوام متحدہ اور دیگر مغربی حکام کے بیان کو ’اسلام کی توہین اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’امارت اسلامی افغانستان اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کے ترجمان اور مغربی ممالک کے نمائندوں کے بیان کو اسلام کے مقدس مذہب کی توہین اور بین الاقوامی معیارات کے خلاف قرار دیتی ہے۔‘
انہوں نے لکھا کہ ’ممالک اور تنظیموں کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو اپنی طرف سے اسلام کے مبارک دین کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز بیانات دینے کی اجازت نہ دیں۔‘
یاد رہے کہ چند دن قبل افغانستان میں طالبان نے خواتین کے عوامی مقامات میں جانے پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔