خیبرپختونخوا کا کاروباری طبقہ بھتہ خوروں سے پریشان، خواتین کو بھی کالز موصول

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں نامعلوم افراد کی جانب سے بھتے کی کالز سے سرمایہ دار طبقہ بشمول خواتین بہت زیادہ پریشان ہیں۔
سرحد چیمبر آف کامرس کے صدر حسنین خورشید نےاردو نیوز سے خصوصی بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ’تاجروں اور کارخانہ داروں کو مسلسل بھتے کی کالیں موصول ہو رہی ہیں۔ نامعلوم نمبروں سے واٹس ایپ پر پیغامات اور کالز کر کے پیسوں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ کالز افغانستان کے نمبروں سے موصول ہوتی ہیں، کاروباری طبقہ عدم تحفظ کی وجہ سے خوفزدہ ہے۔
مزید پڑھیں
’کال پر مطالبہ کیا جاتا ہے کہ تنظیم کی مالی مدد کے لیے پیسے بھیجیں ورنہ سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہیں۔‘
حسنین خورشید کا کہنا ہے کہ کچھ سرمایہ داروں کو ڈرانے کے لیے ان کی فیکٹری کے باہر گرنیڈ بھی پھینکے گئے ہیں۔
 ’ہم نے پولیس، سی ٹی ڈی سمیت تمام متعلقہ اداروں کو ثبوت فراہم کیے ہیں تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی خاطرخواہ نتائج سامنے نہیں آئے۔‘
حسنین خورشید کے مطابق بہت سے تاجر خوف کی وجہ سے بھی بھتہ دینے پر مجبور ہیں مگر وہ کسی کو بتاتے نہیں ہیں اگر حالات اسی طرح رہے تو موجودہ کارخانے بھی بند ہوجائیں گے۔
دوسری جانب کاروباری خواتین بھی بھتے کی کالز سے خوفزدہ ہیں۔

خیبرپختونخوا کی کاروباری خواتین بھی بھتہ خوروں کی کالز سے پریشان ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
خیبرپختونخوا خواتین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی صدر شاہدہ پروین نے اردو نیوز کو بتایا کہ کچھ بزنس ویمن کو کالز موصول ہوئی ہیں جن سے پیسوں کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
’ہماری خواتین تھوڑا بہت نام یا پیسہ کما لیتی ہیں تو ان کو نامعلوم نمبروں سے کالز آنا شروع ہوجاتی ہیں۔ بہت سی خواتین بزنس کے سلسلے میں پشاور آئی تھیں مگر یہاں حالات کے بعد پنجاب واپس چلی گئیں۔‘
شاہدہ پروین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نامعلوم نمبروں سے کال کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور معلوم کرنا چاہیے کہ ان کالز کے پیچھے کون لوگ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ خواتین کے لیے کاروبار کے بہت مواقع ہیں مگر حالات کی وجہ سے انہیں تشویش رہتی ہے۔
’افغانستان کے نمبروں سے آنے والی کالز کو ٹریس کرنا مشکل ہے‘
وزیراعلٰی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے کامرس اینڈ انڈسٹری عبدالکریم نے کاروباری طبقے کی شکایتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کارخانہ مالکان کو افغانستان کے نمبروں سے کالیں آتی ہیں جن کو ٹریس کرنا مشکل ہوتا ہے، تاہم کسی کو اگر دھمکی ملتی ہے تو اس کے لیے سکیورٹی کے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
معاون خصوصی کے مطابق پشاور میں واقع انڈسٹریل اسٹیٹ میں چیک پوسٹوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے اور وہاں تعینات پولیس کی نفری بھی بڑھائی گئی ہے جبکہ رات کو پولیس کا گشت بھی ہوتا ہے۔

تاجروں کے مطابق افغانستان کے نمبروں سے بھتے کی کالز آتی ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
عبدالکریم نے بتایا کہ چیمبر اور انڈسٹری کے عہدیداروں سے ملاقات کی ہے اور سکیورٹی خدشات جلد دور ہو جائیں گے۔
’انڈسٹریل زون میں الگ سے پولیس سٹیشن بھی قائم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ کچھ عناصر کاروباری افراد کو ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مجموعی طور پر حالات بزنس کے لیے سازگار ہیں۔‘
اس معاملے پر اردو نیوز نے پولیس حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن موقف نہ مل سکا تاہم چیف کیپیٹل پولیس افسر اعجاز خان نے گزشتہ ہفتے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ رواں سال بھتہ خوری میں ملوث 62 ملزمان کو ٹریس کر کے گرفتار کیا گیا جو سرمایہ کاروں سے پیسوں کا مطالبہ کرتے تھے۔
ایس ایس پی آپریشنز کاشف آفتاب عباسی کی جانب سے کچھ روز قبل پشاور میں پولیس مقابلے کے دوران ایک مبینہ مطلوب بھتہ خور کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے اپوزیشن اراکین بھی بھتہ خوروں کی کالز سے تنگ آکر تھانے میں ایف آئی آر درج کروا چکے ہیں تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔